بیجنگ (شِنہوا) چین نے بدھ کو 11 نئے پیشوں اور موجودہ پیشوں میں 23 نئے مخصوص شعبوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ یہ نئے پیشے ٹیکنالوجی، صنعت اور صارفین کی بدلتی ضروریات کے باعث پیدا ہونے والی نئی ملازمتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزارت انسانی وسائل و سماجی تحفظ اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے جاری فہرست میں شامل نئے پیشوں میں ساحل پر بحری جہازوں کے انتظامی امور کے انجینئرنگ ٹیکنیشن، ذہین روبوٹس کے ٹیکنیشن اور کھیلوں کے ڈیٹا تجزیہ کار شامل ہیں۔
حکام نے پہلے سے موجود چھ پیشوں یا مخصوص شعبوں سے متعلق معلومات میں بھی ترمیم کی ہے جن میں زرعی مصنوعات کے بروکرز بھی شامل ہیں۔
نئے تسلیم شدہ پیشوں میں سے پانچ کا تعلق ڈیجیٹل شعبے اور تین کا ماحول دوست شعبے سے ہے، جس کے بعد چین میں ڈیجیٹل پیشوں کی مجموعی تعداد 113 جبکہ ماحول دوست پیشوں کی تعداد 142 ہوگئی ہے۔
حالیہ فہرست میں جدید خدمات کے شعبے میں مسلسل توسیع کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔
کچھ نئے پیشے کاروباری ترقی اور صنعتی بہتری پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، جن میں کارپوریٹ پائیداری کے منصوبہ ساز، ہوائی اڈوں پر رکاوٹوں کی نشاندہی اور صفائی کے معائنہ کار اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایجنٹ تیار کرنے والے ماہرین شامل ہیں جبکہ کچھ پیشے لوگوں کو بہتر معیار کی خدمات فراہم کرنے کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے تحت متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں اگربتیاں اور خوشبودار اشیاء بنانے والے ہنرمند، سمارٹ فرنیچر کی تنصیب اور معائنہ کرنے والے کارکن اور تازہ کٹے ہوئے پھولوں کی پروسیسنگ کرنے والے کارکن شامل ہیں۔
پہلے سے موجود پیشوں کے تحت نئے شعبوں میں کمیونٹی ورکرز، کم بلندی پر سامان پہنچانے والے کارکن اور بزرگوں کے لئے گھروں کی تزئین و مرمت کے ڈیزائنرز شامل ہیں۔
2019 سے اب تک چین 121 نئے پیشوں پر مشتمل آٹھ فہرستیں جاری کر چکا ہے۔
وزارت نے کہا ہے کہ نئے پیشوں کے لئے قومی معیار وضع کئے جائیں گے تاکہ پیشہ ورانہ تعلیم، ہنر کی تربیت اور افرادی قوت کی صلاحیت جانچنے کے عمل میں رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
چین کا مقصد 15 ویں پانچ سالہ منصوبے (2026۔2030) کے دوران ڈیجیٹل معیشت، ماحول دوست معیشت اور بزرگوں سے متعلق معیشت میں روزگار کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔


