ہومتازہ ترینتیز رفتار ریل سروس نے چین کے لانگ مارچ کے دو اہم...

تیز رفتار ریل سروس نے چین کے لانگ مارچ کے دو اہم انقلابی مقامات کو آپس میں ملا دیا

نان چھانگ (شِنہوا) اتوار کی صبح روئی جن سٹیشن سے یان آن جانے والی تیز رفتار ٹرین جی 3998 کی روانگی کے ساتھ چین کے دو اہم انقلابی مقامات پہلی بار براہ راست تیز رفتار ریل سروس کے ذریعے آپس میں منسلک ہوگئے۔

رواں سال سنٹرل ریڈ آرمی کے لانگ مارچ کی فتح کو 90 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ روئی جن لانگ مارچ کا نقطہ آغاز تھا جبکہ یان آن لانگ مارچ کے بعد کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کا اہم انقلابی مرکز بنا۔ دونوں شہر بالترتیب چین کے مشرقی اور شمال مغربی علاقوں میں واقع ہیں۔

نئی ٹرین سروس دونوں شہروں کے درمیان پہلی براہ راست تیز رفتار ریل سروس ہے۔ یہ ٹرین 300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار سے ایک ہزار857 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے اور پورا سفر تقریباً 11 گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے۔ یہ سروس چین کے مشرقی علاقے کو چین کے شمال مغربی شہری علاقوں سے ملانے والا اہم ریل رابطہ ہے۔ اس کے راستے میں روئی جن، یودو، نان چھانگ، ووہان، شی آن اور یان آن سمیت کئی اہم انقلابی مقامات اور بڑے شہر آتے ہیں۔

طویل عرصے تک ان دونوں نسبتاً دور دراز شہروں کے درمیان نہ کوئی براہ راست ٹرین اور نہ ہی پروازتھی۔ مسافروں کو نان چھانگ، ووہان، شی آن یا دیگر شہروں میں کم از کم دو مرتبہ ٹرین تبدیل کرنا پڑتی تھی، جس کے باعث پورے سفر میں 16 سے 22 گھنٹے لگ جاتے تھے۔

حالیہ برسوں میں نان چھانگ۔گان ژو، شی آن۔یان آن اور شی آن۔شی یان سمیت کئی تیز رفتار ریلوے لائنیں شروع کی گئی ہیں، جس سے چین کے شمال مغربی اور مشرقی علاقوں کے درمیان سفر کا فاصلہ اور وقت نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ چائنہ ریلوے نان چھانگ گروپ کمپنی لمیٹڈ کے مطابق جنوبی جیانگ شی اور شمالی شانشی کے سابق انقلابی علاقوں کے درمیان مختلف شعبوں میں روابط بھی تیزی سے بڑھے ہیں۔ ان میں انقلابی مقامات کے مطالعاتی دورے، پارٹی سے متعلق تبادلے، رشتہ داروں سے ملاقاتیں اور کاروباری سفر شامل ہیں، جس کے باعث دونوں شہروں کے درمیان براہ راست سفر کی طلب مسلسل بڑھ رہی تھی۔

اس طلب کو پورا کرنے کے لئے ریلوے حکام نے ٹرینوں کی گنجائش اور نظام الاوقات کو بہتر بنایا اور روئی جن سے یان آن کے درمیان براہ راست تیز رفتار ریل سروس شروع کر دی۔

چائنہ ایگزیکٹو لیڈرشپ اکیڈمی یان آن کے محقق وانگ تاؤ نے کہا کہ روئی جن سے یان آن تک سنٹرل ریڈ آرمی نے لانگ مارچ کے دوران 25 ہزار لی (12ہزار 500 کلومیٹر) کا سفر پیدل طے کیا اور بے شمار مشکلات اور خطرات کا سامنا کیا۔ آج جدید ٹیکنالوجی کے دور میں تیز رفتار ریل سروس نے ان دونوں مقامات کو آپس میں جوڑ دیا ہے۔

روئی جن شہر کی ترقی اور اصلاحات کمیشن کے نائب سربراہ سونگ شوئے لین نے کہا کہ براہ راست تیز رفتار ریل سروس نے نہ صرف دونوں شہروں کے درمیان فاصلے کو کم کیا ہے بلکہ اقتصادی روابط کے لئے ایک اہم راستہ بھی قائم کیا ہے۔

سونگ نے کہا کہ اس سروس سے راستے میں آنے والے علاقوں میں ثقافتی سیاحت اور زراعت کی ترقی کو فروغ ملے گا جس سے سابق انقلابی علاقوں کی اعلیٰ معیار کی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کو تقویت ملے گی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں