بیجنگ (شِنہوا) یے ہوئی کے لئے گزشتہ موسم گرما کی تعطیلات ڈیجیٹل محاذ پر مسلسل کشمکش کا دور رہی ہیں۔
جب بھی وہ اپنے 10 سالہ بیٹے سے ٹیبلٹ لے لیتیں، وہ پاس ورڈ توڑنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ڈھونڈ لیتا۔ چنانچہ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر انہیں بالآخر اطمینان ہوا، نہ صرف اس لئے کہ بیٹا دوبارہ سکول جانے لگا بلکہ اس لئے بھی کہ اب قانون بھی ان کے ساتھ تھا۔
چین کی جنوب مغربی چھونگ چھنگ بلدیہ میں رہنے والی یے نے کہا کہ ’’اب اساتذہ زیادہ موثر انداز میں سمجھا سکیں گے کیونکہ سمارٹ ڈیوائسز پر پابندی محض سکول کی پالیسی نہیں رہی۔‘‘
یے جس پابندی کا ذکر کر رہی تھیں، وہ بچوں کے جرائم کی روک تھام سے متعلق ایک مقامی قانون میں درج ہے، جو یکم ستمبر سے نافذ العمل ہوا۔ اس قانون کے تحت یے کے بیٹے اور اس جیسے دیگر طلبہ کے لئے موبائل فون، ٹیبلٹ اور دیگر سمارٹ ڈیوائسز سکول لانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں کی تعداد تقریباً 20 کروڑ ہے، جبکہ 97 فیصد سے زائد بچوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے۔
بیجنگ اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے نائب ریسرچ فیلو وانگ پینگ نے کہا کہ الگورتھم کے باعث بچوں کی توجہ کا متاثر ہونا ڈیجیٹل دور میں دنیا بھر کے ممالک کو درپیش مسئلہ ہے۔
وانگ نے کہا کہ سکولوں میں موبائل ڈیوائسز کے استعمال پر پابندی کو قانون کا حصہ بنانا ضروری ہے کیونکہ اس سے سکولوں کو طلبہ کو اس منفی اثر سے محفوظ رکھنے کے لئے پابندی نافذ کرنے میں قانونی مدد ملتی ہے۔
چھونگ چھنگ تازہ ترین علاقہ ہے جہاں موبائل فون پر پابندی کو سکول کی پالیسی سے بڑھا کر قانون کا حصہ بنایا گیا ہے، جبکہ پورا ملک بچوں کی صحت مند نشوونما کے لئے محفوظ اور صحت مند انٹرنیٹ ماحول تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
گوانگ ڈونگ صوبے کے شہر گوانگ ژو، ہینان صوبے کے شہر ژینگ ژو اور فوجیان صوبے کے مختلف علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی قانونی پابندی پہلے ہی نافذ کی جا چکی ہے۔
چھونگ چھنگ کی بلدیاتی قانون ساز اسمبلی کے مطابق اس اقدام کا مقصد نابالغ طلبہ میں انٹرنیٹ کی لت کی بہتر روک تھام ہے۔ اس شق میں وزارت تعلیم کی جانب سے 2021 میں سکولوں میں نابالغوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ سے متعلق جاری کردہ رہنما دستاویز کا حوالہ دیا گیا ہے۔
بچوں کے جرائم کی روک تھام سے متعلق مقامی قانون پر غور کرتے ہوئے چھونگ چھنگ کے قانون ساز ادارے نے پایا کہ سمارٹ فون کے استعمال کے نتیجے میں نامناسب معلومات سے واسطہ پڑنے کے باعث بعض سکول جانے کی عمر کے بچوں میں غیر صحت مند خیالات اور اقدار پیدا ہوئیں اور بعض حتیٰ کہ جرائم میں بھی ملوث ہوئے۔
یے ان تشویش میں مبتلا والدین میں شامل تھی جو اپنے بچوں کو سمارٹ فونز کے منفی اثرات سے دور رکھنے کے لئے جدوجہد کر رہی تھی۔ گزشتہ موسم گرما کی تعطیلات کے دوران ان کا بیٹا روزانہ تقریباً آٹھ گھنٹے سکرین پر گزارتا رہا اور آن لائن گیمز کے لئے ورچوئل ملبوسات اور دیگر اشیاء کی خریداری پر رقم بھی خرچ کی۔ یے نے کہا کہ ’’وہ ہمیشہ ٹیبلٹ کا لاک کھولنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ڈھونڈ لیتا تھا۔‘‘
یے نے امید ظاہر کی کہ سمارٹ ڈیوائسز کے استعمال پر سخت پابندیاں انٹرنیٹ کی لت کو ابتدا ہی میں روکنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
چھونگ چھنگ کے 29ویں مڈل سکول کے طالب علم شیاو جون یی نے سکول میں موبائل فون پر پابندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ فون طلبہ کی توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت کے لئے نقصان دہ اور ان کی تعلیم میں رکاوٹ ثابت ہوئے ہیں۔
شیاو نے کہا کہ ’’جب کلاس جاری ہوتی تھی تو ہم چپکے سے فون نکال کر انٹرنیٹ استعمال کرتے تھے۔‘‘
اساتذہ کا خیال ہے کہ جب موبائل فون پر پابندی قانون کا حصہ بن جائے گی تو طلبہ کے لئے اس کی اہمیت زیادہ واضح ہوگی اور اساتذہ کے لئے اسے نافذ کرنا بھی آسان ہوگا۔
چھونگ چھنگ نارمل یونیورسٹی سے منسلک سائنس سٹی مڈل سکول کے نائب ہیڈ ٹیچر ہو ران روئی آن نے کہا کہ ’’اس سے غیر ضروری نصیحت کرنے میں کافی وقت بچ جائے گا۔‘‘
تاہم حقیقت میں بعض بچوں، خاص طور پر مڈل سکول کے ایسے طلبہ جنہیں سکول لانے اور لے جانے کے لئے والدین موجود نہیں ہوتے، کو ہنگامی رابطے کے لئے موبائل فون کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
29ویں مڈل سکول کے نگران جیانگ یونگ سونگ نے کہا کہ ’’یہ سب کے لئے یکساں پابندی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ قانون میں ایک شق موجود ہے جس کے تحت اگر طلبہ کو سکول میں فون کی ضرورت ہو تو والدین تحریری درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔
دنیا بھر کے ممالک بھی ایسی پابندیاں متعارف کرا رہے ہیں کیونکہ سمارٹ فونز کو کلاس روم میں توجہ بٹانے کا ذریعہ اور طلبہ کی فلاح و بہبود کے لئے ممکنہ خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔
یونیسکو کی تازہ ترین عالمی تعلیمی نگرانی رپورٹ کے مطابق اب 114 تعلیمی نظاموں میں سکولوں میں موبائل فونز پر قومی سطح کی پابندی موجود ہے، جو دنیا بھر کے 58 فیصد ممالک کے برابر ہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف پابندی مسئلے سے نمٹنے کے لئے کافی نہیں اور معاشرے، سکول اور خاندان کی مشترکہ کوششوں پر زور دیا ہے۔
وانگ پینگ نے کہا کہ نابالغوں کو عملی طور پر ڈیجیٹل دنیا سے الگ کرنے کے بعد ان کی توجہ مرکوز کرنے اور گہری و تنقیدی سوچ کی صلاحیتیں پروان چڑھانے کے لئے مزید کوششوں کی گنجائش پیدا ہوگی۔
یے ہوئی نے سکرین سے بچنے والے وقت کے لئے پہلے ہی منصوبہ بنا لیا ہے۔ پیر کو بورڈ گیمز، بدھ کو جاگنگ اور اختتام ہفتہ پر ہائیکنگ، تاکہ ورچوئل لڑائیوں کی جگہ حقیقی سرگرمیاں لے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’بات یہ ثابت کرنے کی ہے کہ اس کی توجہ حاصل کرنے کی جنگ میں حقیقی دنیا جیت سکتی ہے۔‘‘


