اسلام آباد (شِنہوا) پاکستان کے مشرقی صوبے پنجاب کے ضلع تلہ گنگ کے ایک گاؤں کے رہائشی ریاض حسین ہر سال بارش سے اپنی گندم کی فصل کو ہونے والے نقصان کے عادی ہو چکے تھے۔ تاہم اس بار فصل کی کٹائی کے موسم میں انہوں نے قسمت پر بھروسہ کرنے کے بجائے محکمہ موسمیات پاکستان کی جانب سے جاری کردہ موسم کی پیش گوئیوں اور ہدایات پر گہری نظر رکھی اور اسی کے مطابق اپنی زرعی سرگرمیوں میں ردوبدل کیا۔
حسین نے شِنہوا کو بتایا کہ ’’میں بارانی علاقے میں رہتا ہوں اور گزشتہ چند برسوں کے دوران ناقص منصوبہ بندی اور فصل کی کٹائی کے دوران اچانک بارش کی زد میں آنے کے باعث مجھے کافی مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس سال میں نے شروع ہی سے محکمہ موسمیات کی ہدایات پر عمل کیا، جس کی وجہ سے میں نے بہت سا نقصان بچا لیا۔‘‘
اچھی فصل کے باعث وہ اب گاؤں میں دوسروں کے لئے ایک مثال بن گئے ہیں۔ دیگر کسان بھی ان کی مثال پر عمل کرتے ہوئے بوائی سے لے کر جلد تیار ہونے والی مونگ پھلی کی فصل کی مختلف مراحل تک محکمہ موسمیات سے موسم کے بارے میں رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔
حسین کے لئے درست پیش گوئی محض معلومات سے کہیں بڑھ کر تھی، اس نے ان کے روزگار کے تحفظ میں مدد دی۔ ایسی ہی ایک پیشگی اطلاع جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں رہنے والے رستم بلوچ کے لئے بھی انتہائی اہم ثابت ہوئی، جو حسین سے ایک ہزار میل سے زیادہ فاصلے پر رہتے ہیں۔
بلوچ کو محکمہ موسمیات پاکستان کی جانب سے پیشگی اطلاع ملی کہ ان کا گھر سیلاب کے خطرے والے علاقے میں واقع ہے۔ انتباہ پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے سیلابی پانی آنے سے قبل اپنے اہل خانہ کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا اور قیمتی سامان بھی محفوظ جگہ پہنچا دیا۔
انہوں نے شِنہوا کو بتایا کہ ’’بعد ازاں علاقے میں اچانک سیلاب آ گیا۔ اگرچہ مجھے مالی نقصان اٹھانا پڑا، لیکن پیشگی اطلاع نے مجھے حفاظتی اقدامات کرنے اور بگڑتی صورتحال سے اپنے خاندان کو محفوظ رکھنے کے لئے قیمتی وقت فراہم کیا۔‘‘
محکمہ موسمیات پاکستان کی بروقت موسمیاتی انتباہات جاری کرنے کی صلاحیت چین کی محکمہ موسمیات کے ساتھ تعاون کے ذریعے مزید مضبوط ہوئی ہے، جس میں چین کے مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پیشگی موسمیاتی انتباہی نظام ’’مازو‘‘ کا استعمال بھی شامل ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں محکمہ موسمیات پاکستان (پی ایم ڈی) کے شعبہ تحقیق و ترقی کے ڈائریکٹر فروخ بشیر شِنہوا نیوز ایجنسی کو انٹرویو دے رہے ہیں۔(شِنہوا)
محکمہ موسمیات پاکستان کے شعبہ تحقیق و ترقی کے ڈائریکٹر فروخ بشیر نے شِنہوا کو بتایا کہ ’’ہم پہلے ہی موسم کی پیش گوئی میں اچھا کام کر رہے تھے، تاہم چین کی محکمہ موسمیات اور محکمہ موسمیات پاکستان کے درمیان تعاون نے ہماری پیش گوئی اور پیشگی انتباہ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مدد دی ہے۔ مازو نظام اس تعاون کا ایک اہم جزو ہے، جو موسمیاتی معلومات تک رسائی اور ان کے تجزیے کے لئے ایک مربوط پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’مازو کے ذریعے مشاہداتی اعداد و شمار، عددی موسمیاتی پیش گوئی کے ماڈلز، سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات اور مصنوعی ذہانت کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا ہے۔ اس سے ماہرین موسمیات کے کام میں آسانی پیدا ہوتی ہے اور وہ زیادہ تیزی سے باخبر پیش گوئیاں اور پیشگی انتباہات جاری کر سکتے ہیں۔‘‘
مازو اب پاکستان سمیت 40 سے زائد ممالک کی کمیونٹیز کی مدد کر رہا ہے اور پاکستان ان ابتدائی ممالک میں شامل ہے جہاں اسے استعمال کیا گیا۔ پاکستانی ماہرین موسمیات نے اس نظام کو چلانے کے لئے چین کی جامعات میں تربیت حاصل کی، جبکہ پاکستانی سائنسدانوں نے اس کی مشترکہ تیاری میں بھی حصہ لیا۔ پاکستان میں یہ نظام تقریباً ڈیڑھ سال سے استعمال ہو رہا ہے۔
بشیر نے کہا کہ ’’مازو نظام مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے بین الاقوامی موسمیاتی پیش گوئی کے ماڈلز تک رسائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ محکمہ موسمیات پاکستان کی معلومات کو بھی یکجا کرتا ہے۔ اس سے پاکستانی ماہرین موسمیات کو بدلتے ہوئے موسمی حالات کی زیادہ جامع تصویر ملتی ہے اور انہیں اہم موسمی تبدیلیوں اور پیشگی انتباہات کے بارے میں زیادہ باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔‘‘
اس تعاون نے سائنسی تبادلوں، تربیت اور موسمیاتی نظام کی مشترکہ تیاری کے ذریعے دونوں ممالک کے موسمیاتی شعبوں کو بھی ایک دوسرے کے مزید قریب لایا ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں محکمہ موسمیات پاکستان (پی ایم ڈی) کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ظہیر احمد بابر شِنہوا نیوز ایجنسی کو انٹرویو دے رہے ہیں۔(شِنہوا)
محکمہ موسمیات پاکستان کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ظہیر احمد بابر نے شِنہوا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین کا محکمہ موسمیات ترقی پذیر ممالک کے موسمیاتی علم اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مدد کر رہا ہے، جو پیشگی انتباہی نظام بہتر بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
بابر نے کہا کہ ’’یہ ممالک کو اپنی موسمیاتی صلاحیتیں مضبوط بنانے اور موسمی حالات کے نمونوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے رہا ہے، جس سے کمزور اور خطرے سے دوچار آبادیوں کو حفاظتی اقدامات کرنے، زندگیوں اور روزگار کا تحفظ کرنے اور شدید موسمی واقعات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط لچک پیدا کرنے کا موقع ملتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعاون چین کی جانب سے اپنی موسمیاتی مہارت اور ٹیکنالوجی دیگر ممالک کے ساتھ بانٹنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے کہ پیشگی انتباہات بروقت آبادیوں تک پہنچ سکیں۔
پاکستان میں جہاں زراعت کا انحصار موسم پر بہت زیادہ ہے اور سیلاب کے خطرے والے علاقوں میں آبادیاں اب بھی شدید موسمی واقعات کے خطرے سے دوچار ہیں، ایسی پیشگی اطلاعات حقیقی معنوں میں نمایاں فرق پیدا کر رہی ہیں۔ مقامی حکام کے لئے یہ خطرناک حالات پیدا ہونے سے پہلے آبادیوں کو تیار کرنے کے لئے قیمتی وقت فراہم کر سکتی ہیں۔ سیلاب کے خطرے والے علاقے میں رہنے والے خاندان کے لئے اس کا مطلب گھر چھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہونے کے لئے کافی وقت ملنا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایک کسان کے لئے بروقت موسمی پیش گوئی کا مطلب خطرناک موسم گزرنے تک فصل کی کٹائی موخر کرنا ہو سکتا ہے۔


