اوٹاوا (شِنہوا) کینیڈین کاروباری برادری کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 70 فیصد کینیڈین کاروباری منتظمین کو توقع ہے کہ آئندہ 2 برسوں کے دوران چین کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوگا جبکہ 2025 میں یہ شرح 52 فیصد تھی۔
کینیڈا چائنہ چیمبر آف کامرس کی جانب سے کئے گئے سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 48 فیصد جواب دہندگان چین کو اپنے شعبے یا کاروباری ادارے کے لئے ایک تزویراتی مارکیٹ سمجھتے ہیں جبکہ 2025 میں یہ شرح 31 فیصد تھی۔
مزید برآں 42 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ چین، امریکہ کے مقابلے میں کینیڈا کے لئے زیادہ قابل اعتماد تجارتی شراکت دار ہے جبکہ امریکہ کے حق میں 22 فیصد رائے سامنے آئی۔ یہ شرح 2025 میں 29 فیصد تھی۔
4 میں سے 3 جواب دہندگان کا خیال ہے کہ چین کے ساتھ کاروباری روابط کے مواقع اور خطرات کم از کم یکساں طور پر متوازن ہیں جبکہ 35 فیصد کا ماننا ہے کہ مواقع خطرات سے زیادہ ہیں۔
اسی طرح چینی مارکیٹ تک رسائی میں سمجھی جانے والی مشکلات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔ 29 فیصد نے کہا کہ ان کی صنعت میں کمپنیوں کے لئے چین کے ساتھ کاروبار کرنا مشکل ہے جبکہ 2025 میں یہ شرح 41 فیصد تھی۔
کینیڈا چائنہ چیمبر آف کامرس کے صدر جون ڈینگ نے کہا کہ "نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈین کاروباری برادری کے اندر چین کی جانب سے پیش کئے جانے والے مواقع پر اعتماد میں سالانہ بنیاد پر واضح اضافہ ہوا ہے۔”
جون ڈینگ نے کہا کہ ’’جیسے ہی کینیڈا اور چین اپنے دوطرفہ تعلقات کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، زیادہ کاروباری ادارے چین کو ایک تزویراتی مارکیٹ سمجھ رہے ہیں، دوطرفہ تجارت میں اضافے کی توقع کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان زیادہ تجارت اور سرمایہ کاری کے ممکنہ فوائد کو تسلیم کر رہے ہیں۔‘‘
اس سروے میں کینیڈا میں کام کرنے والی کمپنیوں میں درمیانی انتظامی سطح یا اس سے اوپر کے عہدوں پر کام کرنے والے ایک ہزار 8 کینیڈین بالغ افراد کو منتخب کرکے شامل کیا گیا۔


