ہومتازہ ترینمریخ پر زندگی کے آثار تلاش کرنا چین کے تیان وین-3 مشن...

مریخ پر زندگی کے آثار تلاش کرنا چین کے تیان وین-3 مشن کا اہم ہدف ہے، چیف سائنسدان

ہِیفے (شِنہوا) چین کے تیان وین-3 مشن کے چیف سائنسدان ہو زینگ چیان نے کہا ہے کہ تیان وین-3 مشن کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا مریخ پر کبھی زندگی موجود رہی ہے یا نہیں۔ مشن کے تحت مریخ سے اہم سائنسی نمونے زمین پر لائے جائیں گے، جن کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔

ہو زینگ چیان نے شِنہوا کو انٹرویو میں بتایا کہ مریخ پر ممکنہ زندگی کے آثار تلاش کرنا تیان وین-3 مشن کا سب سے اہم سائنسی ہدف ہے۔ انہوں نے یہ بات چین کے مشرقی صوبہ آنہوئی کے دارالحکومت ہیفے میں جمعرات کو شروع ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس برائے گہری خلائی تحقیق 2026 کے موقع پر کہی۔

چین کے سیاروی تحقیق کے پروگرام میں اہم پیش رفت قرار دیئے جانے والے تیان وین-3 مشن کو 2028 کے آس پاس لانچ کرنے کا منصوبہ ہے۔ توقع ہے کہ یہ انسانی تاریخ کا پہلا ایسا مشن ہوگا جو مریخ سے نمونے حاصل کرکے انہیں زمین پر واپس لائے گا۔ اس سے قبل امریکی خلائی ادارے ناسا کے پرزرورینس روور نے مریخ کی سطح سے نمونے جمع کئے ہیں، تاہم انہیں زمین پر لانے کے لئے ایک دوسرے مشن کی ضرورت ہوگی۔ اس کے برعکس تیان وین-3 ایک ہی مشن کے ذریعے نمونے جمع کرنے اور انہیں زمین پر واپس لانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ماہر تعلیم ہو زینگ چیان نے کہا کہ چین کو توقع ہے کہ 2026 کے اختتام تک مریخ پر لینڈنگ کے مقام کا حتمی انتخاب کر لیا جائے گا۔ چینی سائنسدان اس کے ساتھ ساتھ پورے مریخ کا جدید ارضیاتی نقشہ تیار کرنے پر بھی کام کر رہے ہیں۔

مریخ نظام شمسی کے ان سیاروں میں شامل ہے جو زمین سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں اور سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر ماضی میں وہاں زمین سے باہر زندگی موجود رہی ہو۔ اگرچہ مریخ اب ایک سرد اور خشک سیارہ بن چکا ہے، جہاں فضا انتہائی پتلی ہے اور عالمی مقناطیسی میدان موجود نہیں، تاہم ماضی میں اس کی زندگی کے لئے موزوں حالات اور وہاں کبھی زندگی کے وجود کا امکان سیاروی سائنس کے اہم ترین سوالات میں شامل ہیں۔

دنیا بھر میں گزشتہ نصف صدی کے دوران مریخ کی 47 تحقیقی مہمات انجام دی جا چکی ہیں، تاہم مریخ سے نمونے زمین پر لانے اور انسانوں کو مریخ پر بھیجنے جیسے زیادہ پیچیدہ منصوبوں میں ابھی تک فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

ہو زینگ چیان نے کہا کہ تیان وین-3 مشن مریخ پر ایسے خوردبینی حیاتیاتی آثار تلاش کرے گا جو ممکنہ طور پر زمین پر زندگی کی ابتدائی شکلوں سے مشابہ ہوں، تاہم اس امکان کو بھی مدنظر رکھا جائے گا کہ مریخ کی منفرد ارتقائی تاریخ کے نتیجے میں وہاں زندگی کی کوئی نامعلوم شکل وجود میں آئی ہو۔ ان کے مطابق اس سے زندگی سے متعلق اس اہم سائنسی سوال کا جواب دینے کے لئے اہم شواہد حاصل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس مشن سے مریخ کی موسمیاتی تبدیلی، ارضیاتی عمل، سیاروی ارتقا اور زندگی کی ابتدا کے بارے میں سائنسی سمجھ بوجھ میں بھی اضافہ ہوگا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں