بیجنگ (شِنہوا) چین کی قومی طبی تحفظ انتظامیہ نے جمعہ کو بتایا ہے کہ چین کے زچگی انشورنس نظام کی کوریج میں مسلسل توسیع اور بچوں کی پیدائش کے لئے معاونت کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد زچگی کے دوران لوگوں کی اپنی جیب سے ہونے والے اخراجات کم کرنا اور عوام کو زیادہ فوائد پہنچانا ہے۔
انتظامیہ کے نائب سربراہ وانگ وین جون نے جمعہ کو 15 ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے آغاز کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ رواں سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران زچگی انشورنس فنڈ سے 78.42 ارب یوآن (تقریباً 11.6 ارب امریکی ڈالر)خرچ کئے گئے اور 2 کروڑ 55 لاکھ 60 ہزار افراد کو مختلف فوائد فراہم کئے گئے۔
وانگ نے بتایا کہ اس رقم میں سے 60.78 ارب یوآن زچگی الاؤنس کی مد میں دیئے گئے، جو اب مکمل طور پر براہ راست مستحق افراد کو ادا کئے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں چین نے حمل سے پہلے، دوران حمل، بچے کی پیدائش اور بچوں کی پرورش تک زچگی کے پورے مرحلے کے لئے ایک جامع معاونتی نظام قائم کیا ہے۔ اس میں زچگی الاؤنس، بچوں کی نگہداشت کے لئے سبسڈی، انشورنس کے ذریعے طبی اخراجات کی واپسی اور بچوں کی نگہداشت کی کم لاگت سہولتیں شامل ہیں تاکہ خاندانوں پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔
اس وقت 26 کروڑ افراد زچگی بیمہ کے دائرے میں شامل ہیں۔ کئی علاقوں میں ایسے افراد کو بھی زچگی بیمہ میں شامل کرنے کے لئے کوریج بڑھائی جا رہی ہے جو مستقل ملازمت کے بجائے مختلف نوعیت کا کام کرتے ہیں اور ملازمین کی طبی انشورنس میں شامل ہیں۔
صوبائی سطح کے 28 علاقوں کے 303 مقامات میں پالیسی کے تحت مقررہ حدود کے اندر ہسپتال میں بچے کی پیدائش کے اخراجات مریض کی اپنی جیب سے ادا نہ کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ تمام صوبوں نے معاون تولیدی خدمات کو طبی انشورنس کی کوریج میں شامل کر لیا ہے جبکہ اب ملک بھر میں زچگی کے دوران درد کم کرنے کے علاج کے اخراجات بھی طبی انشورنس سے ادا کئے جا سکتے ہیں۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں کئے جا رہے ہیں جب چین کو آبادی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ 2022 سے چین کی آبادی میں کمی آ رہی ہے جبکہ بزرگ افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ شرح پیدائش میں کمی اور آبادی کی عمر میں اضافے جیسے مسائل زیادہ نمایاں ہو گئے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر پیدائش کے لئے سازگار معاشرے کا قیام چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔


