قاہرہ (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوآن نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور ان کی اہلیہ کے ہمراہ عظیم مصری عجائب گھر کا دورہ کیا۔
دونوں سربراہان مملکت اور ان کی بیگمات نے عجائب گھر میں موجود نفیس اور شاندار سنگ تراشیوں اور کتبوں سے مزین پتھر کے ستونوں کا مشاہدہ کیا۔ بعد ازاں انہوں نے عجائب گھر کے مشاہداتی مقام سے اہرام مصر کا نظارہ کیا۔
توتن خامن کے نمائشی ہال میں داخل ہونے کے بعد دونوں صدور نے فرعون کے تخت، سنہری نقاب اور شاہی بگھیوں سمیت قیمتی نوادرات کا مشاہدہ کیا۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور مصر دونوں قدیم تہذیبوں کے حامل اور عالمی ورثے کے مقامات سے مالا مال ممالک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت اور فاصلوں کی حدود سے بالاتر ہو کر دونوں تہذیبیں ایک دوسرے سے رابطے میں رہی ہیں اور دونوں اقوام کے درمیان لازوال دوستی میں نئے ابواب کا اضافہ کرتی رہی ہیں۔
شی جن پھنگ نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ مساوات، باہم سیکھنے، مکالمے اور اجتماعیت پر مبنی تہذیب کے تصور کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی تہذیبی اقدام پر عملدرآمد کریں۔
انہوں نے دونوں ممالک پر یہ بھی زور دیا کہ مختلف تہذیبوں کے درمیان جامع بقائے باہمی اور باہم سیکھنے کو فروغ دیں اور تہذیبوں کی قوت کو مجتمع کرتے ہوئے انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تعمیر کو آگے بڑھانے کے لئے مزید قوت فراہم کریں۔
السیسی نے گزشتہ سال عجائب گھر کے افتتاح پر مبارک باد دینے پر شی جن پھنگ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ قدیم مصری اور چینی تہذیبوں میں تنوع کے باوجود کشادہ دلی، اجتماعیت اور ہم آہنگ بقائے باہمی جیسی خصوصیات مشترک ہیں، جو شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کئے گئے گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کے تصور سے گہری مطابقت رکھتی ہیں۔
السیسی نے کہا کہ مصری فریق عوامی اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے، تہذیبوں کے درمیان مل کر سیکھنے کا عمل آگے بڑھانے اور دنیا کو مزید ہم آہنگ اور جامع بنانے کے لئے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔


