جنان (شِنہوا) چین اور پاکستان کے درمیان تعلیمی تبادلوں کی ایک مضبوط بنیاد طویل عرصے سے موجود ہے۔ چین کے مشرقی صوبہ شان ڈونگ میں متعدد پاکستانی سکالرز چین میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اب وہیں تدریس اور تحقیق کے شعبوں سے وابستہ ہو رہے ہیں۔
پاکستان میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد فہیم ڈاکٹریٹ کی تعلیم کے لئے چین آئے۔ 2021 میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے سے کچھ عرصہ قبل انہیں لیاؤچھینگ یونیورسٹی کی ایک تحقیقی ٹیم کی جانب سے ملازمت کی پیشکش موصول ہوئی۔ آج وہ لیاؤچھینگ یونیورسٹی کے کالج آف ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی میں غیر ملکی ماہر اور ماسٹرز کے طلبہ کے سپروائزر ہیں۔ ان کی بنیادی تحقیق حیوانی تولید اور مویشیوں کی افزائش نسل پر مرکوز ہے اس کے علاوہ وہ انگریزی زبان کے کورسز بھی پڑھاتے ہیں۔
2022 میں لیاؤچھینگ یونیورسٹی کے ایک منصوبے کو فارن ینگ ٹیلنٹ پروگرام کے تحت منظوری دی گئی۔ یہ چین کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے زیر انتظام غیر ملکی ماہرین کے لئے ایک قومی پروگرام ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایسٹرس سینکرونائزیشن، سپر اوویولیشن اور انہیبن امیونائزیشن کی تکنیکوں کے ذریعے گدھوں کی تولیدی کارکردگی بہتر بنانا تھا۔ اس پروگرام نے فہیم کو مزید تحقیقی معاونت فراہم کی اور انہیں اپنے علمی خوابوں کی تکمیل کے ایک قدم مزید قریب پہنچایا۔
فہیم نے کہا کہ ’’جب بھی مجھے کوئی نئی کامیابی حاصل ہوتی ہے یا کوئی نیا خیال آتا ہے، میں اسے اپنی ٹیم کے اجلاس میں شیئر کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق کے لئے کھلے اور باہمی تعاون پر مبنی ماحول نے انہیں بہت جلد اس ادارے کا حصہ ہونے کا احساس دلایا۔
ان کی اہلیہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی بتول حمیرا نے بھی اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ ترقی کے لئے چین کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے اپنا چینی نام چھن یی رکھا ہے۔ ان کا چھوٹا بیٹا لیاؤچھینگ میں پیدا ہوا اور گزشتہ برسوں کے دوران چین میں ان کے خاندان کی زندگی لیبارٹریوں اور کلاس رومز سے آگے بڑھ کر کھیل کے میدانوں اور شہر کی روزمرہ زندگی کے معمولات تک پھیل گئی ہے۔

اختر محمد فہیم کام کرتے ہوئے۔(شِنہوا)
چھی لو انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں کئی پاکستانی اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں جنہوں نے پہلے چینی جامعات سے تعلیم حاصل کی۔ ان میں 38 سالہ محمد اعجاز بھی شامل ہیں جو ادارے کے میڈیکل سکول میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ شان ڈونگ یونیورسٹی سے فارماکولوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اعجاز نے شان ڈونگ میں ہی قیام کا فیصلہ کیا جہاں وہ کینسر اور ہائپر لپیڈیمیا پر تحقیق کر رہے ہیں۔ وہ چین میں تعلیم حاصل کرنے اور زندگی گزارنے کے اپنے تجربات اور مشاہدات آن لائن بھی شیئر کرتے ہیں۔
اعجاز نے کہا کہ ’’گزشتہ برسوں کے دوران چین میں تعلیم حاصل کرتے اور کام کرتے ہوئے میں نے بہت سے دوست بنائے ہیں۔ اپنی تحقیق اور تبادلوں کے ذریعے میں مزید لوگوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد دینا چاہتا ہوں اور چین اور پاکستان کے عوام کے درمیان مزید گہری دوستی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
غیر ملکی ماہرین کے لئے کسی ملک میں قیام کا فیصلہ صرف پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع سے متعلق نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ زندگی میں سہولت بھی اہم ہوتی ہے۔ فروری میں شان ڈونگ نے باصلاحیت افراد کے لئے نئی پالیسیوں کا ایک مرحلہ متعارف کرایا، جس کے تحت غیر ملکی شہریوں کے ورک پرمٹ، رہائش اور سماجی تحفظ سے متعلق خدمات کو مزید آسان بنایا گیا جس سے بین الاقوامی ماہرین کے لئے صوبے میں کام کرنا اور رہنا زیادہ سہل ہوگیا ہے۔
فہیم نے کہا کہ ’’چین میں زندگی بہت سہل ہے اور میں یہاں بہت خوش ہوں۔‘‘ ان کے دفتر کی میز پر ان کے طلبہ کی جانب سے دیئے گئے پھول رکھے ہیں۔ ساتھیوں، طلبہ اور روزمرہ زندگی میں ملنے والے لوگوں کی جانب سے ملنے والی محبت اور خلوص نے اس ملک سے ان کی وابستگی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’چین میرا دوسرا گھر ہے۔ مجھے پاکستان سے محبت ہے اور چین سے بھی محبت ہے۔‘‘


