بشکیک (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ دور کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی نظم ونسق کے لئے مل کر کام کرے۔
شی جن پھنگ نے یہ بات کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں "ایس سی او پلس” اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنانے اور کثیر قطبی دنیا کے قیام پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایس سی او موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق عالمی نظم ونسق میں اصلاحات اور بہتری کے لئے پرعزم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں ایک صدی میں رونما نہ ہونے والی بڑی تبدیلیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ تاریخی رجحانات کے خلاف بالادستی، یکطرفہ طرز عمل اور تحفظ پسندی دوبارہ زور پکڑ رہی ہیں۔ تاہم دنیا کی اکثریت طاقت کی سیاست، تنازعات اور محاذ آرائی یا تنہائی اور پسماندگی کو قبول نہیں کرتی۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ اس کے بجائے دنیا کے بیشتر ممالک قومی ترقی اور عالمی تعاون کے ذریعے عالمی سطح پر اپنا مقام چاہتے ہیں۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے ابھرنے سے عالمی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے اور دنیا کے کثیر سمتی نظام کی جانب بڑھنے کا رجحان ناقابل واپسی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو کس طرح کی کثیر سمتی دنیا کی ضرورت ہے؟ ممالک اس میں کس طرح حصہ لیں گے اور اسے آگے کیسے بڑھائیں گے؟ عالمی برادری کو اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے اور ایسا درست راستہ اختیار کرنا چاہیے جو عملی تجربے اور تاریخ کی آزمائش پر پورا اتر سکے۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ ایک ذمہ دار بڑی طاقت کی حیثیت سے چین مساوی اور منظم کثیر سمتی دنیا کا حامی ہے۔ خودمختار مساوات اور باہمی احترام بنیادی اصول ہیں، توازن، نظم و ضبط اور قانون کی بالادستی بنیادی تقاضے ہیں جبکہ کثیرجہتی، مذاکرات اور مشاورت اس مقصد کے لئے ضروری راستے ہیں۔ باہمی مفاد، باہمی کامیابی اور اجتماعیت ترقی کا راستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ تمام ممالک کو، خواہ وہ حجم، طاقت یا دولت میں ایک دوسرے سے مختلف ہوں، مساوی حقوق، مساوی مواقع اور مساوی قوانین حاصل ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کثیر سمتی دنیا کے ایک اہم حصے اور اس کے پیچھے ایک بڑی قوت کے طور پر گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو بین الاقوامی امور میں زیادہ نمائندگی اور آواز ملنی چاہیے۔
انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ انسانیت کی مشترکہ اقدار کو فروغ دیں، دوہرے معیار، استثنٰی، بیرونی مداخلت، دھونس اور طاقتور کی مرضی کے قانون کو مسترد کریں اور بین الاقوامی تعلقات میں قانون کی بالادستی کو آگے بڑھائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خاص طور پر بڑی طاقتوں کو بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری اور قانون کی بالادستی کا احترام کرنے میں مثال قائم کرنی چاہیے اور عالمی مسائل سے نمٹنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے۔

کرغزستان کے شہر بشکیک میں ایس سی او پلس اجلاس سے قبل چینی صدر شی جن پھنگ اور دیگر رہنماؤں کا کرغز صدر سدیر جعفروف کی طرف سے دیئے گئے استقبالیہ کے موقع پر گروپ فوٹو۔(شِنہوا)
کرغزستان کے شہر بشکیک میں ایس سی او پلس اجلاس سے قبل چینی صدر شی جن پھنگ اور دیگر رہنماؤں کا کرغز صدر سدیر جعفروف کی طرف سے دیئے گئے استقبالیہ کے موقع پر گروپ فوٹو۔(شِنہوا)
شی جن پھنگ نے مزید کہا کہ دنیا کے معاملات پر سب کو مل کر بات کرنی چاہیے اور بین الاقوامی اصول بھی سب کی مشاورت سے طے ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا اقوام متحدہ کے اختیار اور فعالیت کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی اور علاقائی کثیرجہتی نظاموں کو اپنے درمیان تعاون بڑھانا اور کارکردگی بہتر بنانی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ترقی کے ایجنڈے پر توجہ دینی چاہیے، وسعت اور تعاون کو برقرار رکھنا چاہیے اور ڈیجیٹل و مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں موجود فرق کو کم کرنا چاہیے تاکہ تکنیکی انقلاب اور ترقی کے ثمرات تمام ممالک تک پہنچ سکیں۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ 25 سالہ سفر کے بعد ایس سی او نے بڑی طاقتوں، ہمسایہ ممالک اور مختلف حجم کے ممالک کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ایک بہترین مثال قائم کی ہے۔


