ہومتازہ ترینبین الاقوامی تائیکوانڈو میں چین کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے،...

بین الاقوامی تائیکوانڈو میں چین کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، سربراہ ورلڈ تائیکوانڈو

تائی یوآن (شِنہوا) ورلڈ تائیکوانڈو کے سیکرٹری جنرل سیو جیونگ کانگ کا کہنا ہے کہ عالمی تائیکوانڈو میں چین کی اہمیت اب صرف اس کے کھلاڑیوں کی کارکردگی سے نہیں دیکھی جاتی۔

چین کے شمالی شہر تائی یوآن میں 60 سے زائد ممالک اور خطوں کے تقریباً 400 کھلاڑی ورلڈ تائیکوانڈو ویمنز اوپن چیمپئن شپ 2026 میں شریک ہوئیں جس سے کھیل کی عالمی ترقی میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اجاگر کیا گیا۔

تین روزہ چیمپئن شپ 30 اگست کو اختتام پذیر ہوئی۔ یہ لاس اینجلس اولمپکس 2028 کے لئے نئے کوالیفائنگ مرحلے کا خواتین کا پہلا بڑا تائیکوانڈو مقابلہ تھا جس میں ریکارڈ تعداد میں کھلاڑیوں نے شرکت کی۔

سیو جیونگ کانگ نے شِنہوا کو بتایا کہ چین تائیکوانڈو کے نمایاں ممالک میں شامل رہا ہے۔ اس کی خدمات صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی مقابلوں کے انعقاد اور ورلڈ تائیکوانڈو کے اندر فیصلہ سازی کے عمل میں بھی اس کا اہم کردار ہے۔

چین نے حالیہ برسوں کے دوران ورلڈ تائیکوانڈو کے مقابلوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی میزبانی کی ہے۔ سیو کے مطابق یہ رجحان چین کی تنظیمی صلاحیت اور کھیل میں بڑھتے ہوئے کردار کا مظہر ہے۔

سیو نے کہا کہ تائی یوآن اس سے قبل ورلڈ تائیکوانڈو گرینڈ پرکس 2023 کی میزبانی کر چکا ہے جس سے ورلڈ تائیکوانڈو کو ایک اور بڑے بین الاقوامی مقابلے کے کامیاب انعقاد کے حوالے سے اس شہر کی صلاحیت پر اعتماد حاصل ہوا۔

چین کی شین زین یو (دائیں) اور روس کی سوفیا موتلوخ ورلڈ تائیکوانڈو ویمنز اوپن چیمپئن شپ 2026 کے خواتین کے 62 کلوگرام کے فائنل مقابلے میں شریک ہیں۔(شِنہوا)

انہوں نے کہا کہ 21 ویں صدی کے آغاز سے چین دنیا کی صف اول کی تائیکوانڈو اقوام میں شامل ہے اور اس کے پاس باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

تاہم سیو نے کہا کہ اب تائیکوانڈو میں چین کا کردار محض مقابلوں میں شرکت اور کارکردگی تک محدود نہیں رہا۔

چینی حکام ورلڈ تائیکوانڈو کی مختلف کمیٹیوں اور فیصلہ ساز اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور تنظیم کے امور کے مختلف شعبوں میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ تائیکوانڈو کی مختلف کمیٹیوں میں چین کے سب سے زیادہ ارکان مقرر ہیں۔

سیو نے کہا کہ عالمی سطح پر مسابقت کا معیار مسلسل بلند ہو رہا ہے اور مزید ممالک و خطے مضبوط کھلاڑی سامنے لا رہے ہیں، ایسے میں چین کو دنیا کی صف اول کی تائیکوانڈو طاقتوں میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لئے نئے مسائل کا سامنا ہے۔

سیو نے کہا کہ چین پہلے ہی تائیکوانڈو کے حوالے سے ایک سرفہرست ملک ہے لیکن اس پوزیشن کو برقرار رکھنا زیادہ اہم ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں