یانگون (شِنہوا) ایک بہترین لباس کا آغاز ایک بہترین خاکے یا نمونے سے ہوتا ہے۔ میانمار میں ملبوسات کی صنعت سے وابستہ تقریباً 40 پیشہ ور افراد اور طلبہ نے حال ہی میں نمونہ سازی اور ملبوسات کی تیاری میں اپنی مہارتیں نکھارنے کے لئے ایک تربیتی کورس میں شرکت کی۔
میانمار گارمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (ایم جی ایم اے) اور میانمار میں قائم چائنیز ٹیکسٹائل اینڈ گارمنٹ ایسوسی ایشن کے مشترکہ اہتمام سے یہ تربیتی پروگرام یانگون میں منعقد کیا گیا جس میں چین کے مشرقی صوبے جیانگسو کے چھانگ ژو ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکسٹائل اینڈ گارمنٹ کے ماہرین نے تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ تربیت کے دوران خاکہ سازی اور نمونوں کی تیاری پر توجہ دی گئی۔
چھ روزہ تربیت ہفتہ کو اختتام پذیر ہوئی جس میں یانگون اور منڈالے سے تعلق رکھنے والے کارخانہ داروں، نمونہ سازوں، ملبوسات کے شعبے سے وابستہ کارکنوں اور طلبہ نے شرکت کی۔
شوے پوئے منڈالے کمپنی کی بانی ما یی مون کھن کے لئے ملبوسات کی پیداوار کا آغاز نمونہ سازی سے ہی ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی لباس کی تیاری میں پہلا قدم اس کا نمونہ ہوتا ہے۔ اگر نمونہ ٹھیک نہ ہو تو لباس درست نہیں بنتا۔
وہ نمونہ سازی سے متعلق اپنی معلومات میں اضافے کے لئے منڈالے سے یانگون آئیں۔ ایک ملبوسات کے کارخانے کی مالکن ہونے کے ناطے وہ باقاعدگی سے پیداواری رپورٹس کا جائزہ لیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کو سمجھنے سے انہیں پیداواری مسائل کی وجوہات کی نشاندہی اور حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔
اس تربیتی پروگرام میں جیکٹس، سکرٹس اور پتلون کے نمونے بنانے کے ساتھ ساتھ ملبوسات کی تیاری اور ناپ کی ترتیب و دیگر پہلوؤں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
سو پائنگ کمپنی لمیٹڈ کی بانی سو سو پائنگ نے کہا کہ یہ تربیت بہت فائدہ مند ہے کیونکہ اس سے میانمار کی ملبوسات کی صنعت سے وابستہ افراد کی سمجھ بوجھ میں وسعت آتی ہے۔
ان کی کمپنی چین سے کپڑا منگواتی ہے جس کی میانمار میں مصنوعات تیار کر کے فروخت کی جاتی ہیں۔
ڈائمنڈ سی سار گارمنٹ کمپنی لمیٹڈ کی 35 سالہ ڈیزائنر نانگ خام اونگ کے لئے اس تربیت نے نئی تکنیکی مہارتیں حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ میں نے اس قسم کے تربیتی پروگرام میں شرکت کی ہے۔ میں نے نمونہ سازی کے بارے میں سیکھا جو میرے لئے انتہائی مفید ہے۔
اس کورس میں ملبوسات کی صنعت میں قدم رکھنے کی تیاری کرنے والے نوجوان بھی شامل تھے، 22 سالہ طالبہ تھون ساندر وائی ملبوسات کی تیاری میں عملی مہارتیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ چینی زبان بھی سیکھ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اس تربیت میں اس لئے حصہ لیا کیونکہ مجھے ملبوسات کی تیاری میں دلچسپی ہے۔


