ہومتازہ ترینچین کے شی زانگ میں مٹی کے تودے سے متاثرہ سرحدی پورٹ...

چین کے شی زانگ میں مٹی کے تودے سے متاثرہ سرحدی پورٹ پر امداد اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں

بیجنگ (شِنہوا) نیپال میں بلند پہاڑی علاقے میں گلیشیئر ٹوٹنے کے باعث آنے والے تیز رفتار مٹی کے تودوں نے 26 اگست کو چین کے جنوب مغربی شی زانگ خودمختار علاقے میں چین-نیپال سرحد پر واقع گیرونگ بندرگاہ کو اپنی لپیٹ میں لیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا اور متعدد افراد لاپتہ ہوگئے۔

چینی امدادی کارکنوں نے فوری طور پر مٹی کے تودے سے متاثرہ بندرگاہ کے علاقے تک پہنچنے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لئے بھرپور ریسکیو کارروائیاں شروع کیں۔

علاقائی حکومت کے مطابق ہفتے کی شام 6 بجے تک 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی جبکہ 546 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

23 ممالک سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر 261 غیر ملکی شہریوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ لاپتہ ہیں۔ یہ اعداد و شمار اتوار کی صبح علاقائی حکومت کے اطلاعاتی دفتر کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں جاری کئے گئے۔ یہ معلومات محکمہ خارجہ، محکمہ عوامی سلامتی، محکمہ ثقافت و سیاحت اور محکمہ ہنگامی انتظامیہ کے حکام کی جانب سے مشترکہ تلاش اور معلومات کی جانچ پڑتال کے بعد سامنے آئیں۔

پریس کانفرنس میں علاقائی حکومت نے بتایا کہ مٹی کے تودے نیپال کے ایک بلند پہاڑی گلیشیئر سے آنے والے برف اور چٹانوں کے تودے کے باعث گرے۔

نیپال میں ماؤنٹ لانگ تانگ لیرونگ پر تقریباً 5 ہزار 200 میٹر کی بلندی پر ایک گلیشیئر میں شگاف پڑنے سے برف اور چٹانوں کا تودہ گرا۔ یہ تودہ تیزی سے تقریباً 4 ہزار میٹر کی بلندی سے نیچے آیا، پہاڑی ڈھلوان کو بہا لے گیا اور ایک بڑے ملبے کے سیلاب میں تبدیل ہوگیا۔ یہ ملبہ تقریباً 22 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد تقریباً ایک ہزار 800 میٹر کی بلندی پر واقع گیرونگ پورٹ تک پہنچا۔

پیپلز لبریشن آرمی، پیپلز آرمڈ پولیس فورس اور چائنہ آن نینگ نامی سرکاری انجینئرنگ و ریسکیو ادارے کے اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 2 ہزار 141 اہلکار تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 269 ریسکیو گاڑیاں اور 3 ہزار 922 سیٹ امدادی سامان بھی متاثرہ مقامات پر روانہ کیا گیا ہے۔

چین کی وزارت آبی وسائل نے اتوار کو بتایا کہ ڈرون فوٹیج، صبح کے وقت حاصل کی گئی پینورامک تصاویر اور ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کی رپورٹس کے مطابق گیرونگ پورٹ کے اوپر بننے والی جھیل کا پانی تقریباً مکمل طور پر خارج ہوچکا ہے اور دریا میں پانی کا بہاؤ بحال ہوگیا ہے۔

متاثرہ علاقے میں مواصلاتی نظام بحال کردیا گیا ہے۔ علاقائی مواصلاتی انتظامیہ کے مطابق اتوار کو پورٹ پر موجود امدادی کارکنوں سے نئے تعمیر کردہ بیس سٹیشن کے ذریعے کامیاب ٹیلی فون رابطہ قائم کیا گیا۔

گیرونگ پورٹ کے سرحدی گیٹ کے قریب پہلا ہنگامی بیس سٹیشن اتوار کو دوپہر ایک بج کر 30 منٹ پر فعال کردیا گیا۔ اب تک شی زانگ میں ٹیلی کام آپریٹرز نے ایک تباہ شدہ بیس سٹیشن کو بحال کرنے کے علاوہ پورٹ کے قریب 8 نئے بیس سٹیشن بھی قائم کئے ہیں۔

اتوار کی صبح پیپلز لبریشن آرمی کی شی زانگ ملٹری کمانڈ نے وبائی امراض سے بچاؤ کی ایک ٹیم کو متاثرہ علاقے میں روانہ کیا، جس نے ماحول کو جراثیم سے پاک کرنے، خوراک اور پانی کے معیار کی جانچ، ہنگامی ویکسی نیشن اور زخمیوں و بیمار افراد کے لئے معمول کے طبی معائنے کا کام انجام دیا۔ امدادی مشن میں نفسیاتی معاونت فراہم کرنے والے اہلکار بھی شامل تھے جو امدادی کارکنوں اور متاثرہ مقامی رہائشیوں کو باقاعدگی سے نفسیاتی مشاورت فراہم کریں گے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں