تل ابیب (لارڈ میڈیا): اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ان کے ایک بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ دعویٰ انہوں نے ایک اسرائیلی ٹی وی چینل کو ٹیلی فونک انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ تاہم نیتن یاہو نے مبینہ حملے یا ہدف بننے والے بیٹے کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
نیتن یاہو نے اپنے بیٹوں اور اہلیہ کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ایک بیٹے کو ایران کی جانب سے قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس کی وجہ سے خاندان کو سکیورٹی فراہم کرنا ضروری ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ بیان ممکنہ طور پر اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی شن بیت کے اس معاہدے کے دفاع کے لیے دیا گیا ہے، جس کے تحت نیتن یاہو کے بیٹوں اور اہلیہ کو کم از کم پانچ سال تک سکیورٹی فراہم کی جائے گی، چاہے وہ آئندہ انتخابات میں کامیاب نہ بھی ہوں۔
نیتن یاہو کے دو بیٹے ہیں، ایک ایونر جو اسرائیل میں رہتے ہیں اور دوسرا یائر جو امریکا میں مقیم ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کس بیٹے کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید کشیدگی جاری ہے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات اور الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔


