ہومتازہ ترینامریکہ کی ایران کے خلاف " اقتصادی ڈی ڈے" پابندیوں کی دھمکی

امریکہ کی ایران کے خلاف ” اقتصادی ڈی ڈے” پابندیوں کی دھمکی

نیویارک (شِنہوا) امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایران کو "اقتصادی ڈی ڈے” کی دھمکی دیتے ہوئے اسے مزید تنہا کرنے کے لئے نئی پابندیوں کے ایک بڑے سلسلے کا اعلان کیا ہے۔

بیسنٹ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم دنیا بھر میں ایران کے مالی روابط کے خلاف اقتصادی یلغار شروع کر رہے ہیں۔ ہمارا مقصد ایران کو سہارا دینے والا ہر مالی وسیلہ منقطع کرنا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ نئی شعبہ جاتی پابندیوں کا ہدف پانچ اہم شعبے ہیں، جن میں ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور بحری جہاز رانی شامل ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لئے ان شعبوں پر انحصار کیا ہے۔

محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ یہ اقدامات ایران کی مدد کرنے والے ہر مالی وسیلے کو بند کرنے کی ایک مستقل اور منظم مہم کا آغاز ہیں۔ محکمے نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے منی لانڈرنگ یا پابندیوں سے بچنے میں سہولت فراہم کرنے والے کسی بھی ادارے کو امریکی مالیاتی نظام سے کاٹ دیئے جانے کا خطرہ ہے۔

محکمہ خزانہ ایران سے متعلق ان سرگرمیوں کے دائرہ کار میں بھی توسیع کر رہا ہے جن پر امریکہ مستقبل میں پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ محکمہ نے کہا کہ ہر ملک کو ایران سے متعلق ان سرگرمیوں کو بند کرنے کے لئے ایک مقررہ مدت دی جائے گی جن کی نشاندہی امریکہ نے کی ہے۔

بیسنٹ نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے مختلف رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابطہ کر رہے ہیں اور ان سے ایران کے ساتھ روابط ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسی دوران محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے مختلف ممالک میں تقریباً 60 اداروں، افراد اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو ایران کی سرگرمیوں میں معاونت کرتے ہیں۔ ان میں غیر قانونی جوہری اور میزائل ٹیکنالوجی کے حصول، سائبر کارروائیوں اور تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کے نیٹ ورکس سے متعلق سرگرمیاں شامل ہیں۔

او ایف اے سی نے کئی عمومی لائسنس بھی معطل کر دیئے ہیں جن کے تحت پہلے ایران کو بعض ترسیلات زر کی ادائیگی اور ایرانی شہریوں کو امریکی ثقافتی اور تعلیمی نظام تک رسائی کی اجازت تھی۔

اس کے علاوہ امریکی محکمہ خزانہ نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق ایرانی مطالبات پر عمل کرنے سے پیدا ہونے والے پابندیوں کے خطرات کے حوالے سے مزید رہنما ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں