روم (شِنہوا) ایک اطالوی کاروباری رہنما نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے پیش کیے گئے چاروں عالمی اقدامات جغرافیائی سیاسی تقسیم اور عالمی عدم استحکام کے دوران بین الاقوامی سطح پر نظم و نسق کا ایک نیا نقطہ نظر اور بین الاقوامی تعاون کے لیے نئے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
اٹلی چائنہ کونسل فاؤنڈیشن کے چیئرمین ماریو بوسیلی نے شِنہوا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ اقدامات قومی سرحدوں سے بالاتر بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی فراہم کرنے کی چینی کوششوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو’ کی ایک دہائی سے زائد مدت کے بعد چین کے بین الاقوامی وژن کی مزید گہرائی کی عکاسی کرتے ہیں جن کا دائرہ کار معاشی اور بنیادی ڈھانچے کے تعاون سے پھیل کر ترقی، سیکیورٹی، تہذیبوں کے درمیان مکالمے اور عالمی نظم و نسق پر محیط ہو گیا ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ عالمی ترقیاتی اقدام (جی ڈی آئی) اور عالمی تہذیبی اقدام (جی سی آئی) چین اور اٹلی سمیت یورپ کے درمیان تعاون کو گہرا کرنے کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔
بوسیلی نے کہا کہ عالمی ترقیاتی اقدام کی توجہ موسمیاتی تبدیلی، اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف، ڈیجیٹلائزیشن اور تکنیکی جدت طرازی پر ہے جس سے دیگر شعبوں کے علاوہ قابل تجدید توانائی، شمسی توانائی اور توانائی محفوظ کرنے میں تعاون کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اٹلی اور چین بائیو ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال، مصنوعی ذہانت اور جدید پیداوار میں یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون بھی مضبوط کر سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ عالمی تہذیبی اقدام ثقافت، ثقافتی ورثے کے تحفظ، یونیورسٹیوں اور نوجوانوں کے تبادلوں میں تعاون کو فروغ دے سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ اٹلی اپنے شاندار ثقافتی ورثے اور چین میں "میڈ ان اٹلی” کی زبردست مقبولیت کے ساتھ ایسے اقدامات کے لیے "یورپ کے سب سے فطری شراکت داروں میں سے ایک” ہے۔


