جوہانسبرگ (شِنہوا) چین کے ساتھ بڑھتا ہوا زرعی تعاون جنوبی افریقہ کے زرعی شعبے کے لئے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے جس سے پیداوار اور دیہی معاشی ترقی کو تقویت مل رہی ہے۔
ساؤتھ افریقن سیریلز اینڈ آئل سیڈز ٹریڈ ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آندرے وان ڈیر وی یور نے شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں مزید کہا ہے کہ چین کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کو بہت اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک قابل اعتماد منڈی ہے جس پر ہم درمیانی سے طویل المدتی بنیادوں پر انحصار کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس تعاون کے تحت برآمدات کی حوصلہ افزائی سے پیداوار میں اضافہ ہوگا اور مقامی معیشت خاص طور پر علاقائی اور دیہی علاقوں کو زیادہ فائدہ پہنچے گا۔
وان ڈیر وی یور نے کہا کہ سویا بین کا بڑا درآمد کنندہ ہونے کے ناطے چین جنوبی افریقہ کے پیدا کنندگان کو ایک بڑی اور متنوع منڈی تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس رسائی سے وہ وسعت اور یقین دہانی حاصل ہوگی جو جنوبی افریقہ کے زرعی شعبے کی مسلسل توسیع کے لئے ضروری ہے۔
انہوں نے چین کی جانب سے جنوبی افریقی مصنوعات پر ’زیرو ٹیرف‘ کی سہولت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اپنے بڑے حریفوں کے مقابلے میں جنوبی افریقہ کو حاصل جغرافیائی فائدے اور ٹیرف میں چھوٹ نے برآمد کنندگان کو ایک بڑا سہارا دیا ہے۔
وان ڈیر وی یور نے مزید کہا کہ ٹیرف کا یہ معاہدہ مکئی اور پھلوں سمیت دیگر متعدد زرعی مصنوعات کے لئے بھی نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خام مال کے علاوہ بھی زرعی ویلیو چین کے دیگر شعبوں بشمول زرعی آلات، ٹیکنالوجی، نقل و حمل، بنیادی ڈھانچے اور منڈی تک رسائی میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔


