ہومتازہ ترین"ریاست سے محبت، مفاد پرست عناصر سے اختلاف"

"ریاست سے محبت، مفاد پرست عناصر سے اختلاف”

بلا شبہ پاکستان سے محبت کسی وقتی جذبات، سیاسی وابستگی یا کسی مفاد پرستانہ سوچ کی محتاج نہیں۔ یہ محبت ہماری تاریخ، ہماری شناخت، ہمارے بزرگوں کی قربانیوں، ہجرت کے کرب اور ان لاکھوں انسانوں کی جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے جنہوں نے ایک آزاد وطن کے حصول کے لیے اپنا گھر، کاروبار، زمینیں اور بعض نے اپنی جانیں اور عزتیں تک قربان کر دیں۔ اس لیے پاکستان سے وفاداری ہمارے لیے محض ایک قومی فریضہ نہیں بلکہ ایک تاریخی ذمہ داری بھی ہے۔
لیکن حب الوطنی کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم ریاست اور ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ ان رویوں اور کرداروں پر بھی تنقید کر سکیں جو قومی مفاد کو ذاتی مفاد کے تابع بنا دیتے ہیں۔ ریاست سے محبت کا مطلب خاموشی نہیں؛ بلکہ اصلاح کی نیت سے سچ بولنے کا حوصلہ بھی ہے۔
ہم پاکستان کے خلاف نہیں، پاکستان کو کمزور کرنے والے رویوں کے خلاف ہیں۔ ہمارا اختلاف کسی مخصوص سیاسی جماعت، طبقے یا ادارے سے نہیں، بلکہ اس سوچ سے ہے جو اقتدار کو خدمت کے بجائے ذاتی اور خاندانی غلبے کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ یہ سوچ سیاست میں ہو، بیوروکریسی میں، کاروباری حلقوں میں، مذہبی اداروں میں یا کسی اور ادارہ و شعبۂ زندگی میں ہو، اس کا احتساب ضروری ہے۔
قومیں صرف جغرافیہ سے ریاست نہیں بنتیں؛ ریاست کی اصل طاقت قانون، انصاف، ادارہ جاتی دیانت، شہریوں کے اعتماد اور اجتماعی اخلاق سے پیدا ہوتی ہے۔ جب عام شہری کو یہ احساس ہونے لگے کہ قانون طاقتور اور کمزور کے لیے مختلف ہے، انصاف تک رسائی حیثیت اور تعلقات سے مشروط ہے، اور احتساب کا پیمانہ سب کے لیے یکساں نہیں، تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہونے لگتا ہے۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ ہم نے پاکستان حاصل تو کر لیا، مگر کیا ہم اس پاکستان کی تعمیر کر سکے جس کا تصور عدل، مساوات، دیانت، انسانی وقار اور فلاح پر قائم تھا؟
اسلامی ریاست کا تصور محض ظاہری مذہبی شعائر، مساجد کی کثرت یا مذہبی نعروں تک محدود نہیں۔ اسلام نے ریاست اور معاشرے کے لیے عدل، امانت، شفافیت، سماجی انصاف و مساوات، حقوق العباد اور قانون کی مساوی عملداری کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ اگر معاشرے میں ظلم، ناانصافی، کرپشن، اقربا پروری، سفارش اور قانون کی دوہری عملداری جڑ پکڑ جائیں تو محض مذہبی اصطلاحات اور دعوے ریاست کے اخلاقی کردار کا متبادل نہیں بن سکتے۔
ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان کے مسائل صرف سیاست دانوں کی وجہ سے نہیں۔ اجتماعی خرابی اس وقت جنم لیتی ہے جب مختلف شعبوں کے بااثر افراد اپنے اپنے مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دینے لگتے ہیں۔ سیاست میں اقتدار کی ہوس، انتظامیہ میں اختیارات کا غلط استعمال، کاروبار میں ناجائز منافع، معاشرے میں اقربا پروری، مذہب کے نام پر تنگ نظری اور اداروں میں جواب دہی سے گریز یہ سب مل کر ریاستی کمزوری کو جنم دیتے ہیں۔
اسی لیے تنقید کو غداری اور اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھنے کی روش ختم کرنا ہوگی کہ ایک زندہ قوم اپنے مسائل پر گفتگو کرتی ہے، سوال اٹھاتی ہے، غلطیوں کی نشاندہی کرتی ہے اور اصلاح کے راستے تلاش کرتی ہے۔ ریاستی وفاداری اور اصولی اختلاف ایک دوسرے کی ضد نہیں؛ بلکہ ایک ذمہ دار شہری کے دو پہلو ہیں۔
قائداعظم محمد علی جناحؒ نے جس پاکستان کے لیے جدوجہد کی، اس میں قانون کی حکمرانی، شہری مساوات اور ریاستی نظم و نسق میں دیانت بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔ علامہ محمد اقبالؒ کا تصور بھی ایک ایسے معاشرے کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں فرد کی عزت نفس، اجتماعی عدل اور خودی و کردار بنیادی ستون ہوں۔ لاکھوں مہاجرین اور شہداء کی قربانیاں بھی اسی امید سے وابستہ تھیں کہ آنے والی نسلیں ایک بہتر، آزاد اور باوقار زندگی گزار سکیں گی۔
آج ہماری سب سے بڑی ضرورت کسی نئے نعرے سے زیادہ قومی کردار کی تعمیر ہے۔ ہمیں اداروں کو شخصیات سے، قانون کو تعلقات سے، انصاف کو اثر و رسوخ سے اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد سے بالاتر کرنا ہوگا۔ احتساب بھی ایسا ہونا چاہیے جو انتقام نہ بنے، آزادیِ اظہار بھی ایسی ہو جو ذمہ داری سے عاری نہ ہو، اور اختلاف بھی ایسا ہو جو قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کے بجائے اصلاح کا ذریعہ بنے۔
پاکستان کو مضبوط کرنے کے لیے ہمیں ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے کے بجائے اپنے اصل مسئلے کو پہچاننا ہوگا۔ ہماری جنگ پاکستان کے اندر پاکستان سے محبت رکھنے والے لوگوں کے درمیان نہیں، بلکہ اصول اور مفاد پرستی، قانون اور طاقت، انصاف اور امتیاز، دیانت اور بدعنوانی کے درمیان ہے۔
حقیقی حب الوطنی یہ نہیں کہ ہم ہر خرابی پر خاموش رہیں۔ حقیقی حب الوطنی یہ ہے کہ ہم پاکستان کے پرچم، آئین، قانون، شہریوں کے حقوق اور ریاستی اداروں کی عزت کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ہم اختلاف کریں تو دلیل کے ساتھ، احتساب کریں تو آئینی حدود میں، تنقید کریں تو اصلاح کی نیت سے، اور جدوجہد کریں تو نفرت کے بجائے قومی اتحاد کے جذبے کے ساتھ۔
پاکستان ہماری ریاست ہے؛ اس سے محبت غیر مشروط ہونی چاہیے۔ لیکن پاکستان کو کمزور کرنے والی مفاد پرستی سے اختلاف بھی ہماری قومی ذمہ داری ہے۔
میرے نزدیک وطن سے محبت کا سب سے خوبصورت اظہار صرف یہ کہنا نہیں کہ ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں بلکہ یہ عہد کرنا ہے کہ ہم پاکستان کو ایسا ملک بنانے کی کوشش کریں گے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، انصاف قابلِ رسائی ہو، اقتدار خدمت بنے، احتساب غیر جانب دار ہو اور عام شہری عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
یہی وہ راستہ ہے جو قربانیوں کو معنی دیتا ہے، آزادی کو مقصد عطا کرتا ہے اور پاکستان کو محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک باوقار، منصف اور فلاحی معاشرہ بنانے کی طرف لے جاتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں