بیجنگ (شِنہوا) چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے شہر یوشی کے رہائشی 72 سالہ شی جی کون جب گھر کی کھڑکیاں کھولتے تھے تو انہیں اپنے رہائشی علاقے کے قریب واقع کھیلوں کے ایک انڈور مرکز سے گیندوں کے بار بار ٹکرانے اور سیٹیوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔
شی نے ان برسوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’’دن کے وقت میں کھڑکیاں کھولنے کی ہمت نہیں کرتا تھا‘‘ کیونکہ شور ان کے روزمرہ معمولات میں خلل ڈالتا تھا۔
کھیلوں کے مرکز میں 2 مرتبہ آواز روکنے کے اقدامات کئے گئے۔ اس کی دیواروں پر آواز جذب کرنے والے مواد نصب کئے گئے، جبکہ رہائشی علاقے کی جانب والی سمت میں ڈبل- گلیزڈ ساؤنڈ پروف کھڑکیاں لگائی گئیں۔
شی نے کہا کہ شور میں کمی آئی ہے اور اب محلہ پرسکون ہے، جس سے روزمرہ زندگی کہیں زیادہ آرام دہ ہوگئی ہے۔
شی کا تجربہ چین بھر میں جاری اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد شہری آبادی میں اضافے کے ایک کم نمایاں نقصان یعنی تیزی سے گنجان ہوتے رہائشی علاقوں میں بڑھتے ہوئے شور سے نمٹنا ہے۔
جیسے جیسے شہر پھیل رہے ہیں، گھروں، سڑکوں، کاروباری مراکز، تعمیراتی مقامات اور تفریحی مقامات کو اکثر ایک دوسرے کے قریب تعمیر کیا جاتا ہے۔ چین نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے محلے کی سطح پر ایک طریقہ آزمایا ہے، جس کے تحت ’’پرسکون کمیونٹیز‘‘ قائم کی جا رہی ہیں۔ اس اقدام میں بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے ساتھ مقامی انتظام و انصرام اور تنازعات کے حل کے لئے ثالثی کو یکجا کیا گیا ہے۔
وزارت ماحولیات کے مطابق یہ اقدام مئی 2023 میں قومی سطح کے ایک آزمائشی منصوبے کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ 2025 کے اختتام تک ملک بھر میں مجموعی طور پر 3272 پرسکون کمیونٹیز قائم کی جاچکی تھیں، جن سے 24 لاکھ سے زائد گھرانے مستفید ہوئے۔
اب اس طریقہ کار کو مزید مضبوط قانونی بنیاد بھی حاصل ہوگئی ہے۔ چین کا ایکالوجیکل و انوائرمنٹل ضابطہ نافذ ہوگیا ہے، جس میں شور کی آلودگی کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے لئے ایک علیحدہ حصہ مختص کیا گیا ہے۔
شور کے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2025 میں ضلعی سطح یا اس سے اوپر کے شہروں کو شور سے متعلق تقریباً 68 لاکھ 30 ہزار شکایات موصول ہوئیں، جن میں سماجی زندگی سے پیدا ہونے والے شور کی شکایات کا تناسب 73.2 فیصد تھا۔


