غیر ملکی نوجوان سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ایک گروپ نے حال ہی میں چین کے جنوب مغربی صوبہ گوئی ژو کی جن پھنگ کاؤنٹی میں واقع لونگ لی قدیم قصبے کا دورہ کر کے وہاں کی زندہ اور بھرپور روایات کا براہِ راست تجربہ کیا۔
لونگ لی کا ڈریگن رقص صوبائی سطح کا غیر مادی ثقافتی ورثہ ہے جو 600 برسوں سے زیادہ کی تاریخ رکھتا ہے۔
اس ڈریگن رقص کی خاص بات رقاصوں کے چہروں پر اوپیرا طرز کے نقش و نگار ہیں۔ یہ نقش و نگار ایک روایتی فن ہے جو نسل در نسل محفوظ چلا آ رہا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): نجوا نور اوالیا، سوشل میڈیا انفلوئنسر، انڈونیشیا
’’میرے خیال میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ میں نے اپنے چہرے پر اس طرح کے نقش و نگار بنوائے ہیں۔ مجموعی طور پر میں اسے بہت پسند کرتی ہوں کیونکہ یہ میرے لئے بھی ایک نیا تجربہ ہے۔ مجھے فنونِ لطیفہ خاص طور پر تاریخی فن اور قدرتی حسن سے متعلق فن اچھے لگتے ہیں۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): اسلام بلعریبی، سوشل میڈیا انفلوئنسر،الجزائر
’’میں نے آج ایک شاندار تجربہ کیا۔ انہوں نے میرے سارے چہرے پر نقش و نگار بنائے۔ مجھے یہ واقعی بہت پسند آئے کیونکہ میرا ماننا ہے کہ جب ہم کسی ثقافت اور روایات کا خود تجربہ کرتے ہیں تو ہم اسے بہتر طور پر سمجھتے ہیں اور اس تجربے کو حقیقتاً محسوس بھی کرتے ہیں۔
ڈریگن رقص کا تجربہ ہمیں ٹیم ورک کی طاقت کا احساس دلاتا ہے۔ جب ہم اکٹھے کام کرتے ہیں تو مل کر شاندار نتائج بھی حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): گوہ چیاؤ یِنگ، سوشل میڈیا انفلوئنسر، ملائیشیا
’’مجھے ٹیم ورک اور ٹیم کا جذبہ اس وقت بہت اچھا لگا جب میں نے یہ ڈریگن رقص کیا۔
میں واقعی محسوس کر سکتی ہوں کہ چین ایک ایسا ملک ہے جو بہت سی ثقافتی روایتوں سے مالا مال ہے۔ میرے خیال میں چین ایک ایسا ملک ہے جو بہت دوستانہ جذبات رکھتا ہے۔ آپ بھی یہاں خود کو اس ثقافت میں پوری طرح شامل محسوس کر سکتے ہیں۔‘‘
گوئی یانگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


