بیجنگ (شِنہوا)چین میں زیر تعلیم پی ایچ ڈی اسکالر محمد عمر مشتاق نے چائنیز اکیڈمی آف سائنسز میں اپنے داخلے کو تعلیمی کیر ئیر کا بہتر ین انتخاب قرار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ اس ادارے نے انہیں عالمی معیار کی تحقیق، جدید سائنسی سہولیات اور ایک بھرپور علمی ماحول فراہم کیا ہےجس نے ان کے تعلیمی سفر کو نئی جہت دی ہے۔
محمد عمر مشتاق نے کہا کہ کہ ان کا تعلق ضلع اٹک سے ہے جو پنجاب کا ایک تاریخی اور صنعتی اہمیت رکھنے والا علاقہ ہے جہاں قدرتی وسائل اور تعلیمی ماحول نے ان کے ابتدائی تعلیمی رجحان کو مضبوط کیا۔
وہ پا کستان میں ابتدائی تعلیم مکمل ہو نے کے بعد چین کے تعلیمی نظام کا حصہ بننے کی کو شش شروع کر چکے تھے اوراس حوالے سے انہیں اس وقت کا میابی ملی جب چین کے دارالحکومت بیجنگ میں وا قع چا ئنیز اکیڈ می آ ف سائنسز نے 2023 میں انہیں پی ایچ ڈی میں داخلے کی تصدیق کی۔
پاکستانی اسکالر نے کہا کہ چین کی قومی سطح پر گرین مینوفیکچرنگ، قابل تجدید توانائی اور سرکلر اکانومی کے فروغ کی پالیسی نے ان کے تحقیقی شعبے کو مزید اہم بنا دیا ہے جہاں نہ صرف جدید لیبارٹریز موجود ہیں بلکہ صنعتی تعاون کے بھی وسیع مواقع میسر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ متاثر کرنے والی بات چین کا منظم تحقیقی نظام، جدید انفراسٹرکچر اور طلبا کی عملی تربیت ہے جہاں نوجوان محققین کو آزادانہ طور پر تحقیق کرنے اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔
اپنی تحقیق کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ان کی تحقیق خاص طور پر با ئیو بیسڈ کیمیکلز، گرین کیمسٹری، ٹیکنو اکنامک اینالیسس اور لائف سائیکل اسیسمنٹ جیسے جدید شعبوں پر مبنی ہے جو پاکستان کی پائیدار صنعتی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا کام نہ صرف پروسیس سمولیشن اور میمبرین سیپریشن ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے بلکہ وہ جدید سافٹ سینسرز اور مشین لرننگ کو بھی با ئیو پروسیسز کے ساتھ جوڑنے پر تحقیق کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد مستقبل میں ماحول دوست صنعتی نظام کی ترقی میں کردار ادا کرنا ہے تاکہ توانائی، ماحول اور معیشت کے درمیان بہتر توازن قائم کیا جا سکے۔
انہوں نے بتا یا کہ وہ چین میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد پاکستان کے صنعتی اور تحقیقی شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب، ماحولیاتی آلودگی اور روایتی صنعتی نظام کے چیلنجز کے پیش نظر ایسے ماہرین جدید، ماحول دوست اور کم لاگت صنعتی ماڈلز متعارف کروا سکتے ہیں۔
وہ پاکستان کی جامعات میں تحقیق و تدریس کے ذریعے نئی نسل کو جدید سائنسی طریقوں سے روشناس کرا سکتے ہیں جبکہ انڈسٹری کے ساتھ مل کر بائیو فرمنٹیشن اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی عملی ایپلیکیشن بھی ممکن بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پالیسی سازی کے عمل میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں جس میں خصوصا گرین مینوفیکچرنگ اور سرکلر اکانومی کی قومی حکمت عملی شامل ہے۔


