ہائیکو (شِنہوا) صوبہ پنجاب میں مصنوعی ذہانت پر مبنی چین- پاکستان سمارٹ زرعی لیبارٹری کے قریب گندم کے کھیتوں پر اب جدید ڈرونز باقاعدگی سے گشت کرتے نظر آتے ہیں۔ بصری شناخت کے آلات سے لیس یہ ڈرونز فصلوں کی نشوونما سے متعلق بروقت ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں۔
مقامی کسان کھیت کے کناروں سے مہارت کے ساتھ اپنے موبائل فونز پر کسان 360 ایپلیکیشن استعمال کرتے ہیں اور اس کے اردو انٹرفیس کے ذریعے زرعی خدمات تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔
لیبارٹری کے ایک محقق ڈاکٹر وو جون نے کہا کہ کسان 360 ایپ سیٹلائٹ تصاویر اور ڈرون ڈیٹا کی مدد سے کسانوں کو درست زرعی معلومات اور مدد فراہم کرتی ہے۔
کچھ عرصہ قبل پنجاب سے تقریباً 4 ہزار کلومیٹر دور چین کے صوبے ہائی نان میں بوآؤ فورم برائے ایشیا سالانہ کانفرنس 2026 کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں صنعتوں کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے ملاپ اور اس شعبے میں بین الاقوامی تعاون سب سے اہم موضوع رہا۔

چینی اکیڈمی آف انجینئرنگ کے ماہر ژانگ یاچھن بوآؤ فورم برائے ایشیا سالانہ کانفرنس کے ایک متوازی اجلاس کے دوران اے آئی پلس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔(شِنہوا)
چینی اکیڈمی آف انجینئرنگ کے ماہر ژانگ یاچھن نے فورم کے دوران کہا کہ ایک دہائی قبل بوآؤ فورم برائے ایشیا میں پیش ہونے والا اے آئی پلس منصوبہ اب ایک تصور سے عملی حقیقت میں بدل چکا ہے اور اے آئی کی ترقی کے لئے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔
چین اور پاکستان سدا بہار سٹریٹجک شراکت دار کے طور پر حالیہ برسوں میں باہمی مفید اے آئی تعاون کا راستہ ہموار کر چکے ہیں۔ یہ شراکت داری چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی ترقی کو مضبوط کرچکی ہے اور بین الاقوامی اے آئی تعاون کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آئی ہے۔
مئی 2024 میں مشترکہ طور پر قائم ہونے والی مصنوعی ذہانت پر مبنی چین-پاکستان سمارٹ زرعی لیبارٹری کا باضابطہ افتتاح کیا گیا اور اس سے منسلک تحقیقی منصوبوں کو عالمی بینک اور ایشین ڈیزاسٹر پریونشن سنٹر سے مالی معاونت حاصل ہوئی۔
لیبارٹری کی تیار کردہ کسان 360 ایپلیکیشن مقامی کسانوں کو اردو میں فصل کی نگرانی اور کیڑوں و بیماریوں کے تجزیہ جیسی ذاتی نوعیت کی خدمات فراہم کرتی ہے اور اب تک سینکڑوں پاکستانی کسانوں نے اسے آزمائشی طور پر استعمال کیا ہے۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے ڈاکٹر سلطان حبیب اللہ خان نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی زراعت کے لئے سائنسی حل فراہم کرتا ہے اور مقامی کاشتکاری میں حقیقی تبدیلیاں لایا ہے۔
چین- پاکستان اقتصادی راہداری سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں ممالک نے فائیو جی، ڈیٹا سنٹرز اور انٹرنیٹ آف تھنگز جیسے سمارٹ انفراسٹرکچر کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے گہرے ملاپ کو بھی آگے بڑھایا ہے۔ اس پیش رفت کا مقصد ڈیجیٹل ثمرات کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔

چائنہ اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (سی اے آئی سی ٹی) کے صدر یو شیاؤ ہوئی بوآؤ فورم برائے ایشیا سالانہ کانفرنس کے ایک متوازی اجلاس کے دوران "مصنوعی ذہانت صنعتی بہتری کا محرک” کے موضوع پر خطاب کر رہے ہیں۔(شِنہوا)
بوآؤ فورم برائے ایشیا سالانہ کانفرنس 2026 میں چائنہ اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (سی اے آئی سی ٹی) کی صدر یو شیاؤ ہوئی نے کہا کہ ایشیا میں اے آئی کے شعبے میں مضبوط طلب اور توانائی موجود ہے۔ چین کے اوپن سورس اے آئی ماڈلز نے دیگر ممالک کے لئے اپنے آزاد ماڈلز تیار کرنے کی مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔
اس سے چین اور پاکستان کے درمیان اے آئی کے شعبے میں ٹیلنٹ کی تربیت میں قریبی تعاون کا راستہ بھی ہموار ہوا ہے۔
دونوں ممالک نے واضح طور پر اتفاق کیا ہے کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون کو گہرا کریں گے اور مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں عملے کے تبادلے کو مضبوط کریں گے۔
ہواوے، جو پاکستان کا ایک بڑا چینی آئی سی ٹی پارٹنر ہے، طویل عرصے سے ملک میں ٹیلنٹ کی ترقی میں حصہ لے رہا ہے اور معلوماتی و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے ماحول دوست نظام کو فروغ دے رہا ہے۔
کمپنی نے 3 لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو آئی ٹی کی مہارتیں سکھانے کا عہد بھی کر رکھا ہے تاکہ پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی میں معاونت کے لئے مقامی آئی سی ٹی ماہرین کی مسلسل کھیپ تیار کی جا سکے۔ اس سلسلے میں کمپنی پہلے ہی متعدد تربیتی اور سرٹیفیکیشنز پروگرام مکمل کر چکی ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنے اہلکاروں کو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے مشاہدے اور مطالعے کے لئے چین بھی بھیجا ہے تاکہ اس شعبے میں ماہرین کی کمی کو بتدریج دور کیا جا سکے۔
آج مربوط اے آئی پر مبنی ترقی چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے جدید ورژن کو چلانے والی ایک اہم محرک بن کر ابھری ہے جو ڈیجیٹل دور میں دوطرفہ تعلقات میں نئی توانائی ڈال رہی ہے۔


