بیجنگ (شِنہوا) چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ خلیجی ریاستوں کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے اور شہریوں اور غیر فوجی اہداف کو ضروری تحفظ فراہم کیا جانا لازمی ہے۔
وانگ نے جرمن وزیر خارجہ جوہان ویڈفول کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہا کہ بحری راستوں کی سلامتی کے ساتھ ساتھ توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات کی حفاظت بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
ویڈفول نے کہا کہ ایران کی موجودہ صورتحال سنگین اور پیچیدہ ہے اور اس کے عالمی معیشت، توانائی اور خوراک کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازع کا جلد خاتمہ عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔
ویڈفول نے مزید کہا کہ جرمنی اقوام متحدہ کے کردار کی حمایت کرتا ہے اور چین اور پاکستان کی جانب سے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لئے پیش کئے گئے 5 نکاتی منصوبے کو اہمیت دیتا ہے۔ وزیر نے مزید کہا کہ ان کا ملک چین کے ساتھ رابطہ اور تعاون جاری رکھنے کے لئے تیار ہے۔
وانگ یی نے چین کے اصولی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کئے گئے فوجی حملے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر اور واضح طور پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
وانگ نے کہا کہ ذمہ دار بڑی طاقتوں کے طور پر چین اور جرمنی کو معروضی اور غیر جانبدار موقف اختیار کرنا چاہیے، تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے، اور جنگ کے جلد خاتمے اور علاقائی امن و استحکام کی بحالی کو فروغ دینا چاہیے۔


