ہومتازہ ترین15 ایشیا پیسیفک ممالک کا آزادانہ تجارتی معاہدہ بوآؤ فورم کا مرکزی...

15 ایشیا پیسیفک ممالک کا آزادانہ تجارتی معاہدہ بوآؤ فورم کا مرکزی موضوع بن گیا

چین کے شہر بوآؤ میں ایشیا سالانہ کانفرنس 2026 کے لئے منعقد ہونے والے بوآؤ فورم میں علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (آر سی آئی پی) خاص توجہ کا مرکز بنی رہی۔

15 ایشیا پیسفک ممالک کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری (آر سی ای پی) پر عملدرآمد کا آغاز سال 2022 میں ہوا تھا۔

فورم کے شرکا نے بتایا کہ عالمی سطح پر آزادانہ تجارت کا یہ سب سے بڑا معاہدہ کھلے پن کی عالمی معیشت میں استحکام اور نئی رفتار لا رہا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): ریبیکا فاطمہ سٹا ماریا، سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایپک سیکریٹریٹ

"آر سی ای پی کا بنیادی تصور تجارت میں آسانیاں لانا تھا اور یہی اس کا سب سے بڑا ہدف تھا۔”

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): جوناتھن کے ایس چوئی، چیئرمین، ہانگ کانگ چائنیز جنرل چیمبر آف کامرس

” لوگ، اشیا، سرمایہ اور معلومات سمیت مختلف بہاؤ آر سی ای پی کی اصل بنیاد ہیں۔”

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): وون چیو چائی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل، ایسوسی ایٹڈ چائنیز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ملائیشیا

"آر سی ای پی عالمی سطح پر آزادانہ تجارت کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ یہ عالمی تجارت کے ایک اہم ستون کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): ایڈورڈو پیڈروسا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایپک سیکرٹریٹ

” آر سی ای پی شراکت داری کا ایک معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کا تعلق صرف تجارت اور ٹیکسوں تک محدود نہیں۔ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس میں صلاحیت سازی ہے۔ اجتماعی محنت ہے۔ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو تجارتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی سوجھ بوجھ ہے۔ یہ معاہدہ اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ تجارتی عمل رکاوٹیں پیدا کئے بغیر تسلسل سے جاری رہے۔ یہ معاہدہ اس بات کا بھی شعور پیدا کرتا ہے کہ حقیقی معیارات کیسے قائم ہوتے ہیں اور پھر انہیں یقینی طور پر کس طرح ہم آہنگ رکھا جا سکتا ہے۔ "

ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): ریبیکا فاطمہ سٹا ماریا، سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایپک سیکرٹریٹ

"چین کا اس بات کو یقینی بنانے میں اہم کردار ہے کہ ہم اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کو نبھائیں۔جب ہم آر سی ای پی کے نفاذ کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے تو وہاں کچھ خلا پایا گیا۔ چین کے پاس مضبوط تعلیمی ماہرین اور معتبر تحقیقی اداروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ۔ ہمیں ان تحقیقی اداروں کی جانب سے آراء کی بھی ضرورت ہے۔”

بوآؤ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

بوآؤ فورم میں آر سی ای پی بحث کا مرکزی موضوع بن گیا

آر سی ای پی 15 ایشیا پیسیفک ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ ہے

تجارت میں سہولتیں اور باہمی تعاون کا فروغ معاہدے کے بنیادی مقاصد میں شامل

شرکاء نے عالمی معاشی استحکام میں آر سی ای پی کے کردار کو سراہا

وون چیو چائی کے مطابق یہ دنیا کا سب سے بڑا آزاد تجارتی معاہدہ ہے

جوناتھن کے ایس چوئی نے سرمایہ اور معلومات کے بہاؤ کو اس کی بنیاد قرار دیا

ایڈورڈو پیڈروسا آر سی ای پی کو تجارت کے بجائے شراکت داری کا عنوان دیتے ہیں

صلاحیت سازی اور نئی ٹیکنالوجیز کےتجارتی استعمال اہمیت کا حامل ہے

ریبیکا فاطمہ کے مطابق چین وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنانے پر زور دیتا ہے

آر سی ای پی نے عالمی تجارت میں رکاوٹیں کم اور تجارتی عمل آسان بنایا

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں