ہانگ کانگ میں ’’ہزار سال کی بازگشت، نان یِن‘‘ کے عنوان سے ایک ثقافتی شیئرنگ سیشن منعقد ہوا۔ یہ سیشن ہانگ کانگ آرٹس فیسٹیول کے پلس پروگرام کا ایک حصہ ہے۔
چینی موسیقی کی تاریخ میں ’’زندہ فوسل‘‘ کے نام سے جانا جانے والے اس فنِ موسیقی ’نان یِن‘ کو سال 2006 میں چین کے غیر مادی قومی ثقافتی ورثے کی پہلی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ سال 2009 میں اس کا اندراج اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی انسانیت کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں بھی کر دیا گیا۔
سیشن کی میزبانی چھوان ژو سے تعلق رکھنے والے گلوکار گروپ ’دیان شوئی نان یو‘ نے کی۔ سیشن کا انعقاد فیسٹیول کے ورلڈ میوزک ویک اینڈ کے بعد کیا گیا جہاں گروپ نے اپنی پرفارمنس پیش کی تھی۔ گلوکاروں نے پِپا، سان شیان، ڈونگ شیاؤ، ایر شیان اور کلیپرز سمیت روایتی آلات کو موسیقی کے جدید تصورات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے قدیم فن پیش کیا۔
ہانگ کانگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
ہانگ کانگ میں ’’ہزار سال کی بازگشت: نان یِن‘‘ کے عنوان سے ثقافتی شیئرنگ سیشن
سیشن ہانگ کانگ آرٹس فیسٹیول کے پلس پروگرام کا حصہ تھا
نان یِن کو چینی موسیقی کا ’’زندہ فوسل‘‘ کہا جاتا ہے
نان یِن کو سال 2006 میں غیر مادی قومی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا
سال 2009 میں اس کا یونیسکو کی نمائندہ فہرست میں بھی اندراج ہو گیا
سیشن کی میزبانی چھوان ژو کے مشہور موسیقی گروپ ’دیان شوئی نان یو‘ نے کی
گروپ نے فیسٹیول کے ورلڈ میوزک ویک اینڈ کے بعد یہ سیشن منعقد کیا
گلوکاروں نے قدیم فن کو جدید موسیقی کے تصورات سے ہم آہنگ کر کے پیش کیا
یہ پرفارمنس روایت اور جدت کے امتزاج کا بہترین مظاہرہ تھی


