بیجنگ (شِنہوا) چین نے 2028 تک انٹرنیٹ آف تھنگز ( آئی او ٹی) کی اپنی بنیادی صنعت کا حجم 35 کھرب یوآن (تقریباً 505.8 ارب امریکی ڈالر) سے زائد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر محکموں کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری ہونےوالے ایکشن پلان میں کہا گیا ہے کہ 2028 تک چین کا مقصد 50 سے زیادہ جدید اور قابل عمل معیارات مرتب کرنا یا ان پر نظر ثانی کرنا اور آئی او ٹی ٹرمینل کنکشنز کی تعداد کو 10 ارب تک بڑھانا ہے۔
آئی او ٹی سینسنگ ٹیکنالوجیز اور مواصلاتی نیٹ ورکس کے ذریعے انسانوں، مشینوں اور اشیاء کے درمیان ہمہ گیر ذہین رابطوں کو ممکن بناتا ہے، جو ڈیجیٹل اور فزیکل دنیا کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔
ایکشن پلان میں آئی او ٹی کے شعبے میں اختراع اور ترقی کو فروغ دینے کے لئے 5 بڑی حکمت عملیوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، جن میں آئی او ٹی ڈیوائسز کی اختراع اور اپ گریڈیشن کو فروغ دینا، آئی او ٹی پلیٹ فارمز کی سروس کی کارکردگی کو بہتر بنانا، آئی او ٹی کے استعمال کے نئے منظرنامے تشکیل دینا، آئی او ٹی نیٹ ورک کی بنیاد کو مضبوط کرنا اور صنعتی ترقی کے لئے ایک مضبوط ماحول دوست نظام قائم کرنا شامل ہیں۔
منصوبے کے مطابق 2028 تک نئی آئی او ٹی ٹیکنالوجیز، مصنوعات اور کاروباری ماڈلز کے ابھرنے کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جس سے پوری صنعت میں اختراعی صلاحیتوں میں بہتری آئے گی۔ سینسنگ، نیٹ ورکنگ اور کمیونیکیشن، ڈیٹا پروسیسنگ اور سکیورٹی جیسی کلیدی ٹیکنالوجیز میں اہم کامیابیاں حاصل کی جائیں گی، جس سے ٹرمینلز اور پلیٹ فارمز کی ذہانت کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوگا۔


