چین کے وسطی صوبہ ہینان میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے روایتی کاشتکاری کو ’’اناج کی اسمارٹ کاشت‘‘ میں تبدیل کرنے کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔
چنگ فینگ کاؤنٹی کے ایک ‘بغیر انسان کے فارم’ میں ڈرونز کے استعمال نے دستی محنت کرنے والی افرادی قوت کی ضرورت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): ژو جیان شی،ڈائریکٹر، مقامی کسانوں کی کوآپریٹو، چنگ فینگ کاؤنٹی، صوبہ ہینان
"اس سے پہلے 3 ہزار مو (تقریباً 200 ہیکٹر) سے زائد زرعی رقبے پر فصلوں کے مکمل معائنے میں دو سے تین دن لگتے تھے اور اس مقصد کے لئے ایک درجن سے زیادہ مزدوروں کی ضرورت ہوتی تھی۔ اب ایک ڈرون یہی کام آدھے دن میں مکمل کر سکتا ہے اور اعداد وشمار کی درستگی کی شرح بھی 95 فیصد سے زیادہ ہوتی ہے۔ میرے فون میں موجود اس ایپ کو دیکھ لیجئے۔ اس میں ڈرون کی پرواز کا راستہ بھی نظر آتا ہے، کھیت پر چھڑکاؤ کی گئی دوا کی مقدار بھی پتہ چلتی ہے اور کور کیا گیا رقبہ بھی واضح دکھائی دیتا ہے۔ پورے عمل کے دوران ہر تفصیل کی مکمل طور پر نگرانی کی جاتی ہے اور یہ مکمل کنٹرول میں ہوتی ہے۔”
کھیتوں میں ذہین سینسر نصب ہیں جو حقیقی وقت میں نمی، درجہ حرارت اور کھاد سمیت درجنوں عوامل کی نگرانی کرتے ہیں۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): وانگ چیانگ، ایسوسی ایٹ پروفیسر، ہینان ایگریکلچرل یونیورسٹی
"ان سینسرز کے ذریعے جمع کئے گئے اعداد وشمار انٹرنیٹ آف تھنگز کے ذریعے فوری طور پر کلاؤڈ تک منتقل کئے جاتے ہیں۔ یہ سینسر آبپاشی اور کھاد کی فراہمی کے خودکار نظاموں کے ساتھ مل کر نگرانی، تجزیہ اور فراہمی کے امور کو مکمل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔”
ژینگ ژو، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
ہینان میں جدید ٹیکنالوجی نے کاشتکاری میں انقلاب برپا کر دیا
چنگ فینگ کاؤنٹی میں کسان اب جدید ڈرون استعمال ہو رہے ہیں
تین دن کی محنت اب آدھے دن پر آگئی، افرادی قوت کی بھی ضرورت نہیں
ڈرون کے ذریعے فصلوں کی نگرانی کی درستگی 95 فیصد سے زیادہ ہے
ڈرون کی پرواز، دوا کا چھڑکاؤ اور رقبے کی تفصیلات ایپ پر موجود ہیں
کھیتوں میں نصب ذہین سینسر درجہ حرارت اور نمی مانیٹر کرتے ہیں
سینسرز کے ذریعے جمع شدہ ڈیٹا انٹرنیٹ کے ذریعے فوراً کلاؤڈ تک پہنچتا ہے
آبپاشی اور کھاد کے خودکار نظام سینسرز کے ڈیٹا سے چلتے ہیں
جدید ٹیکنالوجی نے روایتی کاشتکاری کے وقت اور محنت کو کم کر دیا
اسمارٹ فارمنگ کے نتائج کسانوں اور ماہرین کے لئے حوصلہ افزا ہیں


