ہومتازہ ترینییل یونیورسٹی کے نوجوانوں کا قدرتی غاروں اور چائے کے کھیتوں میں...

ییل یونیورسٹی کے نوجوانوں کا قدرتی غاروں اور چائے کے کھیتوں میں دیہی ثقافت کا دلچسپ تجربہ

چین کے جنوب مغربی علاقے میں ییل یونیورسٹی کے وِفن پُفز گروپ نے منفرد انداز میں ایک ثقافتی تبادلے کا تجربہ کیا ہے۔ گروپ نے کنسرٹ ہالز کے بجائے قدرتی غاروں اور چائے کے کھیتوں کا رخ کیا اور جدید موسیقی کی دُھنوں کو صدیوں پرانی ڈونگ روایات کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔

مشہور اَکاپیلا گروپ نے پیر اور منگل کے دن صوبہ گوئی ژو کی لی پنگ کاؤنٹی میں گزارے جہاں انہوں نے قدرتی عجائبات، مقامی دستکاریوں اور مختلف نسلی برادریوں کا مشاہدہ کیا۔

طلبہ کا پہلا پڑاؤ چوُنا پتھر کے ایک وسیع قدرتی غار میں تھا جو اپنی منفرد گونج کے حوالے سےمشہور ہے۔ اس دوران انہوں نے اپنی آوازوں کو قدیم چُونا پتھر کی دیواروں سے ٹکرا کر پیدا ہونے والی قدرتی بازگشت کا تجربہ کیا۔

بعد میں انہوں نے چائے کے ایک بڑے باغ کا دورہ کیا اور روایتی طریقے سے چائے بنانے کا عمل دیکھا۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): کوئنسی روزنزویگ، رکن، وِفن پُفز، ییل یونیورسٹی

"یہ بہت خوبصورت ہے۔ ڈھلوان دار پہاڑیوں کو دیکھنا اور چائے بنانے کے اصل طریقہ کار کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنا واقعی ایک خاص تجربہ تھا۔”

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): یونیس اوہ، رکن، وِفن پُفز، ییل یونیورسٹی

"میرے خیال میں یہاں بنایا گیا پُل اور جو چائے کے کھیت ہم نے دیکھے دونوں ہی بہت خوبصورت ہیں۔ یہاں آنا اور ایک بالکل مختلف قسم کے مناظر دیکھنا واقعی ایک خاص اور دلچسپ تجربہ رہا۔ خاص طور پر چائے کے کھیتوں کو دیکھنا بہت اچھا لگا اور اس کے بعد چائے پینا بھی واقعی بہت خوشگوار تجربہ تھا۔”

ڈونگ نسلی برادری کے سب سے بڑے گاؤں زاؤ شِنگ ڈونگ میں مقامی لوگوں نے روایتی لباس پہن کر گروپ کا استقبال کیا۔

طلبہ نے عملی طور پر جن ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لیا اُن میں چپچپے چاول کے کیک بنانا، موسیقی کےروایتی آلات بجانا اور ڈونگ بٹِک رنگائی شامل تھی۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): چارلی کالکنز، رکن، وِفن پُفز، ییل یونیورسٹی

"میں نے انڈیگو رنگ سے ایک آرٹ ورک بنایا۔ یہ میرے لئے اس طرح کے کسی کام کا پہلا تجربہ تھا۔ ان میں سے کوئی ایک چیز اپنے ہاتھ سےبنانا بہت خاص تھا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ چیزیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔”

ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): ایلیجاہ لی، رکن، وِفن پُفز، ییل یونیورسٹی

"میرا خیال ہے کہ اب میں فطرت اور خوبصورت قدرتی مناظر کا بہت بڑا مداح ہوں۔ اس آرام دہ مقام پر آنا اور پہاڑیوں اور چائے کے کھیتوں کے مناظر سے لطف اندوز ہونا واقعی بہت خوبصورت تھا۔ میں اس سے پہلے بھی چین گیا ہوں لیکن صرف بڑے شہروں تک ہی جا سکا۔ اب قدرتی مناظر سے بھرپور اس علاقے میں آنا واقعی بہت اچھا لگ رہا ہے۔ اسی طرح یہاں کی ثقافت کے ساتھ براہِ راست تعامل کرنا بھی ایک حیرت انگیز تجربہ رہا۔ یہاں بہت سے اور علاقے بھی ہیں جہاں مستقبل میں ہم جانا چاہیں گے۔ اس لئے میں ضرور واپس آؤں گا۔”

لی پِنگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

ییل یونیورسٹی کے وِفن پُفز گروپ کا چین کے جنوب مغربی علاقے میں ثقافتی تجربہ

طلبہ نے کنسرٹ ہالز کی بجائے قدرتی غاروں اور چائے کے کھیتوں کا دورہ کیا

جدید موسیقی کو صدیوں پرانی ڈونگ روایات کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا

لی پِنگ کاؤنٹی میں طلبہ نے قدرتی مناظر اور مقامی ثقافت قریب سے دیکھی

سب سے پہلے وہ منفرد گونج والے مشہور چُونا پتھر کے بڑےغار میں گئے

طلبہ نے اپنی آوازوں کو قدیم دیواروں سے ٹکرا کر پیدا ہونے والی گونج کا تجربہ کیا

بعد میں انہوں نے چائے کے باغ کا دورہ کیا اور چائے بنانے کا عمل دیکھا

زاؤ شِنگ ڈونگ گاؤں کے رہائشیوں نے روایتی لباس میں مہمانوں کا استقبال کیا

طلبہ نے چپچپے چاولوں کےکیک بنانے اور روایتی آلات بجانے کی عملی مشق کی

قدرتی مناظر، چائے نوشی اور مقامی ثقافت سیکھنے کا یہ ایک یادگار تجربہ تھا

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں