تنزانیہ کے علاقے چانی کے رہائشی برسوں تک دریاؤں اور غیر مستحکم پانی کے نظام پر انحصار کرتے رہے۔ جب زنجبار واٹر اتھارٹی کی جانب سے پانی کی فراہمی بند ہو جاتی اور بعض اوقات یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہتا تو رہائشیوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا کہ غیر محفوظ ذرائع سے پانی حاصل کریں۔
آج نل کھولتے ہی صاف پانی مسلسل بہنے لگتا ہے جو چین کے تعاون سے پایہ تکمیل کو پہنچنے والے منصوبے کی بدولت ممکن ہوا۔ یہ منصوبہ عالمی ادارۂ صحت اور زنجبار حکومت نے باہمی شراکت سے شروع کیا تھا۔
اس منصوبے کے تحت چانی کے 250 سے زائد رہائشیوں کو دریاؤں کے اس آلودہ پانی سے نجات مل گئی جو بیماریوں کا سبب بن رہا تھا۔ اب انہیں پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل ہے۔
اسکِیسٹوسومیاسس آلودہ پانی سے پھیلتنے والی ایک جراثیمی بیماری ہے۔ اس بیماری نے طویل عرصے سے زنجبار کے دیہی علاقوں کے رہائشیوں کو متاثر کیا۔
چینی ماہرین کی ٹیم کے سربراہ وانگ وی کے مطابق پانی کا بنیادی ڈھانچہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): وانگ وی، رہنما، چینی ماہرین ٹیم
"ہم نے مجموعی طور پر تین واٹر ٹاور نصب کئے۔ ہر ٹاور میں صاف پانی کی نکاسی کے آٹھ پوائنٹس ہیں۔ اس طرح ان پوائنٹس کی کُل تعداد 24 ہوئی۔ صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ گزشتہ سال نومبر میں باضابطہ طور پر فعال ہو گیا تھا۔ منصوبے سے مقامی رہائشیوں کو صاف پانی تک رسائی ملی ہے جس کے نتیجے میں کیڑوں کی بیماری، خونی اسہال اور پیٹ کی خرابی سمیت آلودہ پانی سے پھیلنے والے امراض کی شرح میں نمایاں طور پر کمی آئی ہے۔”
اس منصوبے کے اثرات صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ پانی تک بہتر رسائی نے لوگوں کے لئے معاشی سرگرمیوں اور گھریلو ذمہ داریوں کے لئے وقت نکالنا بھی آسان ہو گیاہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (سواحلی): ہوزائما بکری حاجی، چانی کی رہائشی
"اس منصوبے سے پہلے ہمیں بہت سی مشکلات درپیش تھیں۔ ہمیں پانی کے لئے دریا یا اس سے بھی دور دراز مقامات کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ برسات کے موسم میں جب دریا کا پانی گندا ہو جاتا تو ہمیں صاف پانی کی تلاش میں طویل فاصلے کے سفر کرنا پڑتے تھے۔ تاہم اس منصوبے کے بعد ہم شکر گزار ہیں کہ اب ہمیں اپنے گھروں کے بہت ہی قریب پانی دستیاب ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 3 (سواحلی): جُما مکامے محمد، چانی کا رہائشی
"معاشی لحاظ سے بھی ہم بری طرح متاثر ہوتے تھے کیونکہ اپنے روزگار پر جانے کے بجائے ہمیں گھریلو استعمال کا پانی لانے کے لئے سائیکل یا ریڑھی لے کر نکلنا پڑتا تھا۔ لیکن اس منصوبے کی شروعات کے بعد ہماری مشکلات میں کمی آ گئی ہے۔ اب ہم صبح اٹھتے ہی نلکے سے آسانی کے ساتھ پانی لے آتے ہیں اور پھر اپنی معاشی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔”
زنجبار میں نظر انداز شدہ استوائی بیماریوں کے پروگرام کے ڈپٹی منیجر راشد صالح خمیس کے مطابق چینی ماہرین کے قریبی تعاون کی وجہ سے یہ کامیابی ممکن ہوئی۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): راشد صالح خمیس، ڈپٹی پروگرام منیجر برائے نظرانداز شدہ استوائی خطے کی بیماریاں، زنجبار
"ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے کئے جانے والے اقدامات زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ ایک امید افزا پہل ہے جسے اگر ہم پورے زنجبار میں وسعت دیں تو یہاں آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کےخاتمے کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔”
زنجبار، تنزانیہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
تنزانیہ کے علاقےچانی میں چینی تعاون سے پانی کا منصوبہ مکمل ہو گیا
منصوبہ عالمی ادارۂ صحت اور زنجبار حکومت نے باہمی اشتراک سے شروع کیا تھا
منصوبے سے مقامی رہائشیوں کو صاف پانی تک آسان رسائی مل گئی
آلودہ پانی کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں میں اب نمایاں کمی آ رہی ہے
چینی ماہرین کی ٹیم نے پانی کا مضبوط اور مؤثر بنیادی ڈھانچہ قائم کیا
تین واٹر ٹاورز میں مجموعی طور پر چوبیس نکاسی پوائنٹس موجود ہیں
منصوبے نے گزشتہ برس نومبر میں باضابطہ طور پر کام شروع کر دیا تھا
دیدینہ مسئلہ حل ہونے سے لوگوں کو معاشی سرگرمیوں کا بھرپور موقع مل رہا ہے
مقامی رہائشی گھر کے قریب صاف پانی کی سہولت ملنے پر خوش ہیں
پروگرام ڈپٹی منیجر کے مطابق یہ کامیابی چینی ماہرین کے تعاون سے ممکن ہوئی


