بینن کی وزیر صنعت و تجارت شادیہ الیماتو اسومان نے بتایا ہے کہ ان کا ملک اپنی برآمدات بڑھانے اور دوطرفہ فائدےپر مبنی متوازن تجارت کے نئے انداز کو فروغ دینے کے لئے چین کی زیرو ٹیرف پالیسی سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔
یہ بات شادیہ الیماتو اسومان نے ملک کے اقتصادی مرکز الادا میں شوگرلوف انناس کی چین میں برآمدات کے لئے منعقدہ سرکاری تقریب کے موقع پر کہی۔
تقریب میں چین کے سفیر ژانگ وی، خارجہ، معیشت اور مالیات کی وزارتوں اور سرمایہ کاری و برآمدات کے فروغ کی ایجنسی کے نمائندے بھی موجود تھے۔
اسومان نے کہا کہ انناس کی چین کو کامیاب برآمدات دونوں سربراہانِ ریاست کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے پر عملدرآمد کے لیے ایک تاریخی لمحہ ثابت ہوئیں۔
زراعت، لائیو سٹاک اور ماہی گیری کے وزیر گاستون کوسی دوسوہوئی نے کہا کہ یہ اقدام بینن کے زرعی شعبے میں جدت کے فروغ، روزگار کے مواقع میں اضافے اورعوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینن کو توقع ہے کہ وہ چین کی وسیع منڈی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات برآمد کرے گا اور دو طرفہ زرعی تعاون کو قومی ترقی کا محرک بنائے گا۔
چین کے سفیر زانگ وی نے اس موقع پر کہا کہ انناس کی تجارت دونوں ملکوں کے درمیان عملی تعاون کو گہرا کرنے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے بینن کی اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات کے لئے چین کی منڈی میں داخلے کا نیا راستہ کھلے گا۔ تعاون کا یہ پہلو باہمی فائدے اور عوامی سطح پر قریبی روابط پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری کو واضح طور پر اجاگر کرتا ہے۔
شوگرلوف انناس بینن کی وہ پہلی پیداوار ہے جس نے دانشورانہ ملکیت کے افریقی ادارے سے جغرافیائی شناخت حاصل کی ہے۔
عام گول یا بیضوی انناس کے برعکس لمبی شکل اور عموماً سبز رنگ کےانناس کی اس مخصوص قسم کو شوگرلوف کہا جاتا ہے۔ یہ بینن کی بڑی زرعی برآمداتی مصنوعات میں شامل ہے۔
ستمبر 2023 میں چین اور بینن نے چین کو تازہ انناس کی برآمدات کے لئے نباتاتی صحت کے تقاضوں کے حوالے سے ایک پروٹوکول پر دستخط کئے تھے۔ پھر اس پروٹوکول کی بنیاد پر ان مصنوعات کو باقاعدہ طور پر چین کی منڈی میں داخلے کی اجازت ملی۔
الادا، بینن سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


