ہومپاکستانرہائشی شعبے میں سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں ختم، ہاؤسنگ سیکٹر...

رہائشی شعبے میں سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں ختم، ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی کیلئے اقدامات کو جلد حتمی شکل دی جائے، شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے رہائشی شعبے میں سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں ختم، ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی کیلئے جامع اقدامات کو جلد حتمی شکل دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنا گھر ہر شہری کا حق، آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، بیرونی سرمایہ کاروں و سمندر پار پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کا تحفظ یقینی بنایا جائے، تعمیرات شعبے میں سرمایہ کاری سے معیشت کا پہیہ چلے، روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے۔

جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت رہائشی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ، کم لاگت گھروں کی فراہمی اور روزگار میں اضافے سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا، اٹارنی جنرل، گورنر اسٹیٹ بینک، صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے نمائندوں سمیت نجی شعبے کے ماہرین اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو تعمیرات و رہائشی شعبے پر ٹاسک فورس اور ورکنگ گروپس کی تجاویز پر بریفنگ دی گئی جبکہ منظور شدہ اقدامات پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ بیرونی سرمایہ کاروں اور سمندر پار پاکستانیوں کیلئے خصوصی اقدامات، قانونی اصلاحات اور کم لاگت رہائشی منصوبوں کیلئے قرضوں کے نظام پر کام جاری ہے، بینکوں کو آئندہ مرحلے میں اہداف دیے جائیں گے جبکہ مارگیج فنانس کے مکمل ایکو سسٹم اور ڈویلپر لیڈ فنانسنگ کے جامع نظام کی تیاری بھی جاری ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اپنا گھر ہر شہری کا حق ہے، آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعظم نے رہائشی شعبے میں سرمایہ کاری کی وسیع استعداد سے فائدہ اٹھانے کیلئے رکاوٹیں دور، رہائشی تعمیراتی شعبے کی ترقی کیلئے جامع اقدامات کو جلد حتمی شکل دے کر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے بیرونی سرمایہ کاروں اور سمندر پار پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری سے معیشت کا پہیہ چلے گا اور روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تعمیرات و رہائشی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے قابل عمل حکمت عملی مرتب کر کے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور اس میں پبلک و پرائیویٹ سیکٹر سمیت صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو شامل کیا جائے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں