بیجنگ (شِنہوا) چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے قومی زراعت شماری کے ترمیمی ضوابط جاری کرنے کے لئے ریاستی کونسل کے ایک حکم نامے پر دستخط کر دیئے ہیں، جس کا اطلاق یکم مئی 2026 سے ہوگا۔
ان ترامیم میں مردم شماری کے دائرہ کار کو وسعت دے کر اس میں دیہی صنعتی ترقی اور دیہاتوں کی تعمیر و ترقی کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے نئے طریقے جیسے کہ خلائی مشاہدہ متعارف کرائے گئے ہیں۔
ڈیٹا کے معیار کے کنٹرول کو مزید سخت کیا جائے گا۔ نئے قوانین میں شماری کے بعد اچانک معائنہ کا نظام اور شماری کے عملے کے لئے معلومات کو خفیہ رکھنے کی پابندیاں واضح کی گئی ہیں۔
ترمیمی ضوابط میں اعداد و شمار میں ہیرا پھیری یا جعل سازی کے خلاف بھی سخت موقف اختیار کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے یا من گھڑت معلومات فراہم کرنے کے مرتکب افراد کو بھاری جرمانے سے لے کر فوجداری مقدمات تک کی سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں آئی ہیں جب چین اپنی چوتھی قومی زرعی شماری کی تیاری کر رہا ہے جس کا مقصد زرعی ترقی، دیہی تعمیر، کسانوں کے معیارِ زندگی اور دیہی اصلاحات کے نتائج کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔
اس مردم شماری میں زرعی پیداواری حالات، اناج کی پیداوار، زراعت میں نئی معیاری پیداواری قوتیں، دیہی ترقی اور دیہی باشندوں کے حالات زندگی کا احاطہ کیا جائے گا۔


