لاس اینجلس (شِنہوا) امریکی شہر لاس اینجلس کی ایک عدالت نے ’’سوشل میڈیا لت‘‘ کے ایک مقدمے میں میٹا کے پلیٹ فارمز اور گوگل کی یو ٹیوب کو ذمہ قرار دے دیا۔ اس مقدمے میں ایک خاتون نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کی مایوسی اور بے چینی کی وجہ بچپن سے سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال ہے۔
عدالت نے مصنوعات کی تیاری اور کام میں ان کمپنیوں کو غفلت کا مرتکب قرار دیا اور کہا کہ یہ کمپنیاں میٹا کے انسٹاگرام اور یوٹیوب سے منسلک خطرات سے استعمال کنندگان کو مناسب طور پر خبردار کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ غفلت متاثرہ شخص کو پہنچنے والے نقصان کا بنیادی عنصر ہے ،عدالت نے 30 لاکھ امریکی ڈالر نقصان کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا، جس میں سے 70 فیصد کی ذمہ دار میٹا اور 30 فیصد کی ذمہ دار یوٹیوب ہو گی۔اس کے علاوہ اضافی 30 لاکھ ڈالر جرمانے کی ادائیگی کا بھی حکم دیا گیا جس میں سے 70 فیصد میٹا ادا کرے گی۔
دونوں کمپنیوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو چیلنج کریں گی اور اس کے خلاف اپیل دائر کریں گی۔
این بی سی نیوز کے مطابق میٹا کے ترجمان نے کہا کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت بہت پیچیدہ ہے اور اسے کسی ایک ایپ سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ہر مقدمے میں بھرپور دفاع جاری رکھیں گے کیونکہ ہر کیس مختلف ہوتا ہے اور ہمیں آن لائن نوجوانوں کے تحفظ کے اپنے ریکارڈ پر اعتماد ہے۔


