تہران (شِنہوا) ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ بعض معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ "دشمن” ایک علاقائی ملک کی حمایت سے کسی ایرانی جزیرے پر قبضے کے لئے کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اگر انہوں نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو اس علاقائی ملک کے تمام اہم انفراسٹرکچر کو (ایران کی جانب سے) بغیر کسی پابندی کے مسلسل حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسی روز ایک الگ پوسٹ میں قالیباف نے کہا کہ ایران خطے میں امریکہ کی تمام نقل و حرکت، خصوصاً اس کی فوجی تعیناتیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
قالیباف نے کہا کہ جو کچھ جرنیلوں نے تباہ کیا ہے، وہ فوجی ٹھیک نہیں کر سکتے، اس کے بجائے وہ (اسرائیلی وزیراعظم بنیامین) نیتن یاہو کے وہم و گمان کے شکار بن جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی سرزمین کے دفاع کے ہمارے عزم کو آزمانے کی کوشش نہ کریں۔
قالیباف کے یہ بیانات ان خبروں کے درمیان سامنے آئے ہیں کہ پینٹاگون امریکی فوج کی ایلیٹ 82 ویں ایئربورن ڈویژن کے ہزاروں فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔


