تہران (شِنہوا) ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی حکومت کے ساتھ کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے مرکزی فوجی کمانڈ، خاتم الانبیاء سنٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے بدھ کے روز یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعوؤں کے جواب میں کہی کہ تہران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور جنگ ختم کرنے کے لئے معاہدہ چاہتا ہے۔
ذوالفقاری نے کہا کہ امریکہ جو عالمی سپر پاور ہونے کا دعویدار ہے، اگر خود کو اس مشکل صورتحال سے نکالنے کے قابل ہوتا تو وہ اب تک ایسا کر چکا ہوتا۔
انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ اپنی شکست کو "معاہدے” کا رنگ دے کر چھپانے کی کوشش بند کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن جس "تزویراتی طاقت” پر فخر کیا کرتا تھا وہ اب "تزویراتی شکست” میں بدل چکی ہے۔
ذوالفقاری نے کہا کہ امریکہ اپنی اندرونی خلفشار کی وجہ سے خود ہی سے مذاکرات کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ نہ تو مغربی ایشیا میں سرمایہ کاری کر سکے گا اور نہ ہی توانائی اور تیل کی قیمتوں کو سابقہ سطح پر واپس دیکھ سکے گا، جب تک کہ وہ یہ نہیں سمجھ لیتا کہ اس خطے کا استحکام ایرانی مسلح افواج کی مرہون منت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آیا حالات ماضی کی طرح معمول پر آسکتے ہیں یا نہیں، اس کا دارومدار ایران کی مرضی پر ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ معمول کے حالات صرف اسی صورت میں بحال ہوں گے جب امریکہ اپنے ذہن سے ایرانی قوم کے خلاف اقدامات کا خیال مکمل طور پر نکال دے گا۔


