جوبا (شِنہوا) جنوبی سوڈان نے چینی سفارتخانے اور یونیسف کے اشتراک سے پرائمری سکول کے طلبہ کے لئے چین کی معاونت سے فراہم کردہ تقریباً 11 لاکھ نصابی کتب کی تقسیم کا آغاز کردیا۔
سائنس، ریاضی اور انگریزی کے مضامین پر مشتمل یہ کتابیں چار ریاستوں لیکس، مغربی بحرالغزال، یونٹی اسٹیٹس اور ابیے انتظامی علاقہ میں تقسیم کی جائیں گی۔
وزیر برائے عمومی تعلیم و ہدایات کیوک ابول کیوک نے کہا کہ ان کتابوں کی فراہمی ملک میں معیاری تعلیم کو بہتر بنانے کے ان کے پرعزم منصوبے کی علامت ہے۔
انہوں نے جوبا میں منعقدہ تقریب کے دوران کہا کہ ہم ایک نئے تعلیمی نظام کے نفاذ کے ایک بہت پرعزم راستے پر ہیں۔ ہم ایک ساتھ نصاب نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لئے اس منصوبے نے ہمیں کتابوں پر نظرثانی، اساتذہ کی تربیت اور جائزہ لینے کا موقع فراہم کیا۔
یہ کتابیں اس سے قبل روینگ انتظامی علاقہ، پیبور انتظامی علاقہ اور جونگلی اور سنٹرل ایکویٹوریا ریاستوں میں بھی بھیجی جا چکی ہیں۔
کیوک نے بتایا کہ یہ کتابیں شنگھائی ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس نے چین کی معاونت سے جاری تعلیمی تکنیکی تعاون منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت تیار کی ہیں اور مقامی اساتذہ نے ان کا جائزہ لیا ہے۔
یونیسف نے عالمی شراکت داری برائے تعلیم کے ذریعے ان کتابوں کو ملک بھر کے سکولوں تک پہنچانے کے لئے نقل و حمل کی سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
جنوبی سوڈان میں یونیسف کی نمائندہ نوالا سکنر نے زور دیا کہ ملک کے تمام حصوں تک محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی ضروری ہے تاکہ یہ کتابیں اپنے اصل مستحقین تک پہنچ سکیں۔
جنوبی سوڈان میں چین کے سفیر ما چھیانگ نے کہا کہ ان کتابوں کی تقسیم چین اور جنوبی سوڈان کے درمیان تعلیمی تعاون میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے اور دوسرے مرحلے کے تحت جنوبی سوڈان میں لاکھوں نصابی کتابیں فراہم کی گئیں، چین میں 920 سے زائد اساتذہ کو تربیت دی گئی اور تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار طلبہ اس منصوبے سے مستفید ہوئے۔


