نیروبی (شِنہوا) چین اور کینیا بزنس فورم نیروبی میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے سرکاری اور کاروباری شعبوں سے تعلق رکھنے والے 350 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی اور دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
فورم کا مرکزی موضوع چین کی زیرو ٹیرف پالیسی تھا جو چین کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے 53 افریقی ممالک کے لئے ہے۔ فورم کا انعقاد بین الاقوامی تجارت کے فروغ کے لئے چینی کونسل (سی سی پی آئی ٹی) اور کینیا میں برآمدات کے فروغ اور برانڈ سازی کے ادارے نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔
کینیا کے نائب صدر کتھورے کنڈیکی، سی سی پی آئی ٹی کے چیئرمین رین ہونگ بن اور کینیا کے وزیر برائے سرمایہ کاری، تجارت و صنعت لی کنیانجوئی نے خطاب کیا جبکہ چین اور کینیا کے کاروباری نمائندوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
رین ہونگ بن نے کہا کہ چین یکم مئی سے 53 افریقی ممالک کے لئے زیرو ٹیرف کی سہولت فراہم کرے گا جس سے افریقی برآمد کنندگان کو چینی منڈی تک رسائی کے مزید مواقع حاصل ہوں گے۔
فورم میں زراعت، توانائی، بنیادی شہری سہولتوں، پیداوار اور مالیات سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 64 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ اس دوران چین اور کینیا کی کمپنیوں کے درمیان خریداری کے معاہدے طے پائے اور کافی، ایووکاڈو اور معدنیات جیسے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر غور کیا گیا۔
موضوعاتی مباحثوں کے دوران حکومتی اور کاروباری نمائندوں نے زیرو ٹیرف پالیسی کے نفاذ، نقل وحمل کی راہداری کی ترقی اور زرعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
نمائش کے دوران زراعت، کان کنی اور پیداوار سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کینیا کی 25 کمپنیوں نے اپنی خصوصی مصنوعات پیش کیں جو چین کو زیرو ٹیرف کے تحت برآمد کرنے کی اہل ہیں۔


