ہومتازہ ترینچین کا روایتی مارشل آرٹ ’’چوئے لی فٹ‘‘ سڈنی میں بھی تیزی...

چین کا روایتی مارشل آرٹ ’’چوئے لی فٹ‘‘ سڈنی میں بھی تیزی سے مقبول ہونے لگا

سڈنی کے چائنہ ٹاؤن کے رہائشی 60 سالہ مارک ویلن صرف اپنی نیلی آنکھوں اور کینٹونیز زبان پر عبور کی وجہ سے ہی نہیں جانے جاتے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ روایتی چینی مارشل آرٹ ’’چوئے لی فٹ‘‘سے گہری وابستگی کے باعث نمایاں نظر آتے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): مارک ویلن، ’’چوئے لی فٹ‘‘ فن کا ماہر

” میں رواں برس 60 سال کا ہو گیا ہوں۔ میں ماسٹر چن یونگ فا کا پہلا غیر ملکی شاگرد ہوں۔میرے استاد پانچویں نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور میں چھٹی نسل کا ہوں۔ اس کے بعد ساتویں اور آٹھویں نسل بھی ہے جبکہ یہاں تربیت حاصل کرنے والے بچے نویں نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔”

’’چوئے لی فٹ‘‘ سال 1836 میں چین کے جنوبی صوبہ گوانگ ڈونگ میں چن شیانگ نے قائم کیا تھا۔ یہ اس خطے کے معروف روایتی فنون میں سے ایک ہے۔ سال 2008 میں اسے چین کے قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

ملک سے باہر بھی یہ روایت جاری ہے۔ بانی کے پڑپوتے اور پانچویں نسل کے وارث چن یونگ فا نے سال 1983 میں سڈنی میں ’’چوئے لی فٹ‘‘ کا ایک اسکول قائم کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اس مارشل آرٹ کو دنیا کے 28 ممالک اور خطوں تک پھیلا دیا۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): جوڈ ڈیوین پورٹ، ’’چوئے لی فٹ‘‘ فن کا ماہر

"میرے والد نے اس فن کی تربیت طویل عرصہ قبل اس وقت شروع کی تھی جب وہ نوجوانی کے دور سے گزر رہے تھے۔ پھر جب میرے والد نے ہمارا خاندان بسایا تو ہم سب بہن بھائیوں نے بھی اس فن کو سیکھا۔”

فن سیکھنے والے نوجوانوں کے لئے یہ روایت ایک اعزاز بھی ہے اور ایک ہدف بھی۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): جوڈ نیڈہم، چوی لی فٹ کے ماہر

"میرا ہدف ہے کہ ایک دن میں اعلیٰ درجے کے شاگردوں میں شامل ہو جاؤں۔ میں اس کے لئے سو فیصد محنت کرنے کو تیار ہوں۔”

سڈنی، آسٹریلیا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں