جنیوا (شِنہوا) عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نےبتایا ہے کہ زمین کا موسمیاتی نظام معلوم تاریخ میں پہلے سے کہیں زیادہ عدم توازن کا شکار ہو چکا ہے کیونکہ گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار فضا اور سمندروں کی مسلسل حدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ برف کے پگھلنے کا سبب بن رہی ہے۔
23 مارچ کو "عالمی یوم موسمیات” منایا جاتا ہے، جس کا اس سال کا موضوع "آج کا مشاہدہ، کل کا تحفظ” ہے۔ اسی مناسبت سےڈبلیو ایم او نے "اسٹیٹ آف دی گلوبل کلائمیٹ رپورٹ 2025” جاری کی، جس میں گرین ہاؤس گیسوں، سطح زمین کے درجہ حرارت، سمندری تپش، سمندروں کی تیزابیت، سطح سمندر میں اضافہ، انٹارکٹیکا کی برف اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے اہم اشاریوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ 2015 سے 2025 تک کے 11 سال ریکارڈ پر گرم ترین سال رہے ہیں۔ سال 2025 ریکارڈ کے مطابق دوسرا یا تیسرا گرم ترین سال رہا جس کا درجہ حرارت 1850-1900 کے اوسط سے تقریباً 1.43 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔ دنیا بھر میں شدید گرمی، موسلا دھار بارشوں اور سمندری طوفانوں جیسے سنگین واقعات نے تباہی مچائی جس سے معیشتوں اور معاشروں کی کمزوری کھل کر سامنے آگئی۔
سمندر مسلسل گرم ہو رہے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر رہے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران، سمندروں نے ہر سال انسانوں کے سالانہ توانائی کے استعمال سے تقریباً 18 گنا زیادہ حرارت جذب کی ہے۔ سال 2025 میں سمندری تپش (2 ہزار میٹر کی گہرائی تک) 1960 میں ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس نے 2024 کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔
مختلف مانیٹرنگ سٹیشنز کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ 3 اہم گرین ہاؤس گیسوں یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ کی سطح میں اضافہ 2025 کے دوران بھی جاری رہا۔


