ہومانٹرنیشنلرہنماؤں کی شہادتیں، نئے آنے والے ایرانی زیادہ جارح مزاج ہوسکتے ہیں

رہنماؤں کی شہادتیں، نئے آنے والے ایرانی زیادہ جارح مزاج ہوسکتے ہیں

امریکی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ایران میں نئے آنیوالے رہنماء شہید ہونیوالوں کی نسبت زیادہ جارح مزاج ہو سکتے ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر تجزیہ کار راس ہیرسن نے ٹی وی گفتگو میں کہاکہ ایران کی اگلی قیادت کی نسل ممکنہ طور پر ان رہنماؤں سے زیادہ سخت مزاج ہوگی جو حال ہی میں مارے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سابق ایرانی سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای اور سکیورٹی چیف علی لاریجانی نے ایران عراق جنگ کے کٹھن تجربے سے گزرتے ہوئے مخصوص سفارتی مہارتیں اور خطرہ برداشت کرنے کی صلاحیت حاصل کیں، علی لاریجانی کی شہادت کے بعد جو بھی انکی جگہ لے گا وہ اس تنازع کا متاثرہ ہوگا۔

انکا کہنا تھا کہ طویل مدت میں ہم کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتے لیکن یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ جنگ نئے رہنماؤں کی سٹریٹجک سوچ کو شکل دیگی جیسے ایران عراق جنگ نے پچھلے رہنمائوں کے فیصلوں پر اثر ڈالا تھا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں