اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مشرقِ وسطی میں مستقل جنگ بندی اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا، فریقین تحمل کا مظاہرہ، قلیل النظر پالیسیوں سے گریز کریں۔
سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ گزشتہ سال جولائی میں کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد 2788 منظور کی تھی جس میں تمام تنازعات کے پرامن ذرائع سے حل کو بنیادی اہمیت دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں فوری طور پر منشورِ اقوامِ متحدہ اور اس قرارداد کی روح کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا تاکہ موجودہ بڑھتی کشیدگی کے اس سلسلے پر قابو پایا جا سکے اور اس مہلک چکر کو روکا جا سکے جو حالیہ برسوں میں افسوسناک طور پر اس خطے کو بار بار اپنی لپیٹ میں لیتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کونسل اب بھی 1737کمیٹی کے معاملے پر منقسم ہے، بدقسمتی سے یہ تقسیم ذیلی اداروں کے چیئرمینوں کی تقرری پر اتفاقِ رائے میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے، جس کے باعث ان اداروں کے کام پر نمایاں اثر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہمارا موقف ہے کہ 1737کمیٹی سے متعلق معاملات کو کونسل اور اس کے ذیلی اداروں کے معمول کے کام میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جانا چاہئے۔
ہم اس امر کا بھی نوٹس لیتے ہیں کہ اس معاملے پر رپورٹ کے حوالے سے اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا، جو آج کے اجلاس کی بنیاد بننی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ایران کے جوہری معاملے پر سفارت کاری کے تعطل نے ایسے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جو گزشتہ چند مہینوں سے مسلسل ابتری کی جانب گامزن تھا تاہم جو چیز تبدیل نہیں ہوئی وہ ان بنیادی اصولوں اور کثیرجہتی جذبے کی مسلسل اہمیت ہے جنہوں نے جوائنٹ کمپریہینسیو پلان آف ایکشن کی تشکیل اور 2015ء میں قرارداد 2231کی متفقہ منظوری کی راہ ہموار کی۔
عاصم افتخار نے کہا کہ آج پہلے سے کہیں زیادہ حتی کہ موجودہ تنازع اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران بھی یہ بات واضح ہے کہ پائیدار حل انہی آزمودہ اصولوں کو اپنانے میں مضمر ہے، نہ کہ انہیں ترک کرکے قلیل النظر پالیسیوں کو اختیار کرنے میں ہے ۔
پاکستانی سفیر نے کہا یہ بات واضح ہے کہ مکالمہ، سفارت کاری اور تعمیری روابط ہی آگے بڑھنے کا واحد قابل عمل راستہ ہیں، اس کے باوجود افسوس کہ سفارتکاری کو ترک کرکے عسکری ذرائع کو ترجیح دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے طاقت کے ہر استعمال، شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں موجود جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی ہے۔
ہاکستانی سفیر نے کہا کہ ہم ایران کے جوہری مسئلے کے پرامن حل کیلئے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں،فریقین تحمل کا مظاہرہ ،مزید کشیدگی سے گریز کریں، ہماری تمام کوششیں اسی سمت میں مرکوز ہیں۔


