رواں برس چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دور کا آغاز ہو رہا ہے جو 2035 تک سوشلسٹ جدیدیت کے بنیادی اہداف کے حصول کے لئے ایک اہم مرحلہ ہے۔
متعدد مبصرین نے نئے پانچ سالہ منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے چین کی معاشی مضبوطی اور عالمی اقتصادی نمو کو آگے بڑھانے کی اس کی صلاحیت پر زور دیا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): جیمز کانڈویا، سینئر صحافی، دی گارڈین اخبار، تنزانیہ
"میں دیکھتا ہوں کہ چین کے نئے پانچ سالہ منصوبے میں معیار اور استحکام پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ عالمی معیشت میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور رسد کے نظام میں بار بار آنے والی رکاوٹوں کے پیش نظر چین مضبوط صنعتوں، زیادہ مستحکم تکنیکی صلاحیت اور اندرونِ ملک کھپت و خدمات کے بہتر استعمال کو ترجیح دیتا نظر آتا ہے۔
تنزانیہ کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس کے عملی اثرات سامنے آ سکتے ہیں جیسے اعلیٰ معیار کی مصنوعات، زیادہ ترقی یافتہ ڈیجیٹل حل، صاف توانائی کا نسبتاً سستا سازوسامان اور ممکنہ طور پر افریقہ کے ساتھ زیادہ سرمایہ کاری اور تعاون۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ووگر بایراموف، ماہرِ معاشیات، آذربائیجان
"اعلیٰ معیار کے ایک خطہ ایک سڑک منصوبے پر تعاون کو فروغ دینا اور اعلیٰ معیار کی کھلی معیشت کو وسعت دینا شراکت دار ممالک کے لیے نئی رفتار پیدا کرے گا تاکہ وہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور جدت طرازی کے فوائد حاصل کر سکیں۔
"اس کے ذریعے شراکت دار ممالک ماحول دوست ترقی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، صحت، سیاحت اور زراعت جیسے شعبوں میں تعاون کے ذریعے ٹیکنالوجی کی نئی ایجادات سے زیادہ قریبی طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔”
پانچ سالہ اسٹریٹجک اور جامع منصوبے چین کی حکمرانی کی نمایاں خصوصیت ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ کار دیگر ممالک کے لئے بھی ایک مثال اور تحریک کا باعث ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): مارک بیسن، معاون پروفیسر، آسٹریلیا چین ریلیشنز انسٹی ٹیوٹ، یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، سڈنی
"میرے خیال میں طویل مدتی نقطۂ نظر اختیار کرنا بالکل ضروری ہے۔ میرے نزدیک اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ عملی طور پر کام مکمل کرنے کے حوالے سے چین کا تاریخی ریکارڈ بے مثال اور غیر معمولی ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): ایڈہیرے کیوِنس، محقق، بین الاقوامی تعلقات، کینیا
"میرا خیال ہے کہ دیگر ممالک چین کے تجربے سے سیکھ سکتے ہیں خاص طور پر طویل مدتی اہداف طے کرنے، قابل عمل اقدامات بنانے، اور انہیں قابلِ انتظام پانچ سالہ ادوار میں تقسیم کرنے کے حوالے سے۔ اس طرح حکومت اپنی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لے سکتی ہے اور ملک کا ہر شہری اس بات سے آگاہ ہوتا ہے کہ ملک کس سمت آگے بڑھنا چاہتا ہے۔”
بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


