بیجنگ (شِنہوا) چین کے سالانہ "دو اجلاسوں” کے آغاز کے ساتھ ہی صدر شی جن پھنگ کا پیش کردہ "نئی معیاری پیداواری قوتوں” کا تصور اب ملک کی مستقبل کی اقتصادی ترقی کی رہنمائی کرنے والا اہم موضوع بن گیا ہے۔
جمعرات کو قومی مقننہ کے اجلاس میں جیانگ سو صوبے کے وفد کے ساتھ تبادلہ خیال کے دوران صدر شی نے کہا کہ نئی معیاری پیداواری قوتوں کی ترقی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے اور اقتصادی مسابقت بڑھانے کے لئے نہایت اہم ہے۔
شی جن پھنگ جو کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں، نے یہ تصور سب سے پہلے 2023 میں پیش کیا تھا۔ اس کے بعد سے اس تصور کی بنیادی روح اور اس کے راستے مزید واضح ہوئے ہیں۔
2024 کے "دو اجلاسوں” میں شی نے زور دیا کہ اب وقت ہے کہ ابھرتی ہوئی اور مستقبل کی صنعتوں کو پروان چڑھایا جائے اور ساتھ ہی روایتی صنعتوں کو بھی تبدیل اور اپ گریڈ کیا جائے۔
ایک سال بعد دوبارہ "دو اجلاسوں” میں شی نے نئی معیاری پیداواری قوتوں کے اہم کردار پر زور دیا اور کہا کہ سائنسی و تکنیکی اختراع اور صنعتی جدت ان قوتوں کو فروغ دینے کے بنیادی راستے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) نئی معیاری پیداواری قوتوں کی نمائندہ اور چین کی سائنسی و تکنیکی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے والی ٹیکنالوجی کے طور پر اب صنعتوں میں جدت اور اختراع کو آگے بڑھا رہی ہے، جس پر صدر شی مسلسل دلچسپی سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اے آئی کے علاوہ صدر شی دیگر ابھرتی ہوئی اور مستقبل کی صنعتوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جنوری میں سیاسی بیورو کے پہلے گروپ سٹڈی سیشن میں انہوں نے کہا کہ مستقبل کی صنعتوں کو فروغ دینا نئی معیاری پیداواری قوتوں کی ترقی، جدید صنعتی نظام کی تعمیر، عوام کے معیار زندگی میں بہتری اور معاشرتی ترقی کے لئے نہایت اہم ہے۔
صدر شی کا نئی معیاری پیداواری قوتوں کا تصور روایتی صنعتوں کی تجدید پر بھی برابر زور دیتا ہے۔ ان کا پیغام واضح ہے کہ روایتی صنعتوں کو ترک نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں نئی زندگی دی جائے گی۔


