امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوج، پولیس اور پاسداران انقلاب کے اہلکاروں سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ حکومتی قیادت سے الگ ہو جائیں تو انہیں مکمل معافی دی جائیگی۔
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے سکیورٹی فورسز سے کہا کہ وہ ایرانی عوام کا ساتھ دیں اور حکومت کے خاتمے میں مدد کریں، ہتھیار ڈالنے والوں کو مکمل تحفظ دیا جائیگا جبکہ مزاحمت جاری رکھنے والوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے بیرونِ ملک تعینات ایرانی سفارتکاروں سے بھی پناہ لینے اور ایران کے بہتر مستقبل کی تشکیل میں مدد دینے کی اپیل کی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ لڑائی میں ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت تقریباً تباہ ہو چکی ہے، اسکے تقریباً 60فیصد میزائل اور 64فیصد لانچرز تباہ ہو گئے ہیں جبکہ درجنوں بحری جہاز بھی ڈبو دئیے گئے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ ایران ماضی میں قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس سے قبل ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے نئے رہنما کے انتخاب کے عمل میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے، انہوں نے علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبی خامنہ ای کو ممکنہ جانشین کے طور پر مسترد کر دیا۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے ایران اگر سمجھتا ہے کہ امریکا طویل جنگ جاری نہیں رکھ سکتا تو یہ اسکی غلط فہمی ہے، امریکی افواج نے ابھی لڑائی شروع ہی کی ہے۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ عیال ضمیر نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر حملوں کے اگلے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کا مقصد ایرانی حکومت اور اسکی فوجی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔
ادھر ایران نے بھی جواب میں اسرائیل پر راکٹ حملوں کی نئی لہریں داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جنگ کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کئے جا رہے ہیں، ایران سے منسلک حملوں یا جھڑپوں میں آذربائیجان، ترکی، عراق اور حتی ٰکہ سری لنکا کے قریب سمندری علاقوں تک واقعات پیش آئے ہیں۔


