یہ چین کے مشرقی صوبے شان ڈونگ میں واقع رِژاؤ بندرگاہ ہے جہاں روایت اور جدت ایک ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔
ایک بڑی جامع بندرگاہ کے طور پر اس کے شیجیو بندرگاہی علاقے میں 51 لاکھ مربع میٹر پر مشتمل آپریشنل زون قائم ہےجہاں بنیادی طور پر کنٹینرز اور کھلے لادے گئے مال کی ترسیل کی جاتی ہے۔
وہ دن گزر چکے جب مال کی جانچ کے لئے ٹالی کلرک کو روزانہ بیس ہزار سے زائد قدم چلنا پڑتا تھا۔ آج آپریٹرز ریموٹ کنٹرول سینٹر کے آرام دہ ماحول سے دیوہیکل مشینری کو زیادہ درستگی، حفاظت اور مؤثر طریقے سے کنٹرول کر رہے ہیں۔
یہ تبدیلی مقامی طور پر تیار کردہ ایک ذہین آپریٹنگ سسٹم کے ذریعے ممکن ہوئی ہے جس کے نتیجے میں بندرگاہ کا پورا نظام اسکرین پر زندہ تصویر کی طرح پیش کیا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر کارگو ڈھیر کی مقدار، مقام اور سابقہ ریکارڈ کو حقیقی وقت میں مانیٹر کیا جاتا ہے، اور یہ تمام معلومات ایک نظر میں دستیاب ہوتی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ (چینی): جیانگ نان، ڈپٹی ڈائریکٹر، پروڈکشن شیڈولنگ آفس، فرسٹ برانچ، شان ڈونگ پورٹ گروپ رِژاؤ پورٹ
"فائیو جی، ڈیجیٹل مڈل پلیٹ فارم اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجیز کے استعمال سے بی ٹوس (بلک ٹرمینل آپریٹنگ سسٹم ) نے مکمل منظرنامہ پر مبنی بصری نظم و نسق اور کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس کے ذریعے ملی سیکنڈز میں مقام کے تعین اور پیداواری شیڈولنگ سے متعلق فیصلہ سازی ممکن ہو گئی ہے۔ اس نظام نے 21 لاکھ مربع میٹر پر پھیلے علاقے کا ڈیجیٹل ٹوئن تیار کیا ہے جہاں متحرک انداز میں ترتیب دئیے گئے 500 سے زائد کارگو ڈھیر اور ایک کروڑ ٹن سے زائد ذخیرہ موجود ہے جس کے ذریعے کنٹینر یارڈ کا ذہین اور انتہائی درست انتظام ممکن بنایا گیاہے۔”
لیکن جدت کا سفر یہیں ختم نہیں ہوتا۔
ریل گاڑیوں کے ڈبوں کو الگ کرنے کا کام روبوٹس کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے جس سے درستگی میں اضافہ اور انسانی خطرات میں کمی آئی ہے۔
ایک ذہین لوڈنگ ٹاور روایتی طریقوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تیزی سے ریل گاڑیوں کو مال سے بھر دیتا ہے۔
ہوا اور شمسی توانائی سے چلنے والے آف شور معلوماتی پلیٹ فارم کے ذریعے بندرگاہی آپریشنز صفر کاربن اخراج کے ساتھ پیچیدہ سمندری حالات میں بھی مؤثر اور مستحکم انداز میں جاری رہتے ہیں۔
یہ چین کی نئی معیاری پیداواری قوتوں کی عملی جھلک ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کے ذریعے جدیدیت کو آگے بڑھانے اور روایت کو جدت میں ڈھالنے کی کہانی ہے۔
سال 2025 میں رِژاؤ بندرگاہ نے 58 کروڑ ٹن سے زائد کارگو اور 73 لاکھ 70 ہزار ٹی ای یو کنٹینرز ہینڈل کئے جو بالترتیب 5.1 فیصد اور 9.8 فیصد سالانہ اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
چین کے شہر جینان سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
رِژاؤ بندرگاہ اسمارٹ اور ماحول دوست تبدیلی کی مثال بن گئی
شان ڈونگ میں واقع یہ بندرگاہ تیزی سے جدید نظام اپنا رہی ہے
ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی سے کارگو کی نگرانی حقیقی وقت میں کی جاتی ہے
فائیو جی اور مصنوعی ذہانت سے آپریشنز زیادہ مؤثر ہو رہے ہیں
ریموٹ کنٹرول سینٹر سے دیوہیکل مشینری محفوظ انداز میں چلائی جاتی ہے
روبوٹس ریل ڈبوں کی علیحدگی کا کام انجام دے رہے ہیں
ذہین لوڈنگ ٹاور ٹرینوں کو روایتی طریقوں سے تین گنا تیزی سے بھرتا ہے
ہوا اور شمسی توانائی کے باعث آپریشنز صفر کاربن بن چکے ہیں
کنٹینر یارڈ کا انتظام اب مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو چکا ہے
سال 2025 میں کارگو اور کنٹینرز کی ہینڈلنگ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا


