ہومانٹرنیشنلامریکہ اور اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ، اہم تنصیبات کو نشانہ...

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ، اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا

واشنگٹن/یروشلم (شِنہوا) امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران کے خلاف "بڑی جنگی کارروائیاں” شروع کر دی ہیں۔ یہ کارروائیاں جنیوا میں حالیہ امریکہ-ایران جوہری مذاکرات کے کسی معاہدے پر منتج نہ ہونے کے بعد کئے گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا کہ امریکہ نے ایران میں "بڑی جنگی کارروائیاں” شروع کر دی ہیں۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہمارا مقصد ایران کی جانب سے لاحق فوری خطرات کو ختم کر کے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جائے گا اور امریکہ ایران کے میزائلوں کو تباہ کرنے اور اس کی میزائل صنعت کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ ملک نے "اسرائیل کو درپیش خطرات کے خاتمے” کے لئے ایران کے خلاف پیشگی حملہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران میں بظاہر حملے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے قریب ہوئے۔ متعدد میزائل یونیورسٹی سٹریٹ، جمہوری علاقے اور تہران کے دیگر مقامات پر بھی گرے۔ اصفہان، قم، کراج، کرمان شاہ اور ایلام سمیت دیگر ایرانی شہروں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

حملے کے دوران ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں جبکہ تہران کے بعض حصوں میں موبائل فون سروس معطل کر دی گئی۔

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ملک بھر میں فوری اور خصوصی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ ایرانی جوابی کارروائی کے امکان کے پیش نظر عوام کو خبردار کرنے کے لئے اسرائیل بھر میں سائرن بجائے گئے۔ اسرائیلی ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق اسرائیلی فضائی حدود شہری پروازوں کے لئے بند کر دی گئی ہیں۔

اسرائیلی وزارت دفاع نے خبردار کیا کہ اسرائیل اور اس کی شہری آبادی کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کا فوری امکان ہے۔

اسرائیلی دفاعی افواج نے تعلیمی سرگرمیوں، عوامی اجتماعات اور دفاتر میں حاضری پر پابندی عائد کر دی ہے، تاہم ضروری خدمات کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔

تل ابیب کے قریب واقع بین گوریان بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت معطل کر دی گئی ہے اور مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہوائی اڈے کا رخ نہ کریں۔

ایران کے خلاف یہ حملے جنیوا میں امریکہ-ایران جوہری مذاکرات کے جمعرات کو اختتام پذیر ہونے کے بعد کئے گئے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی بڑی فوجی تعیناتی اور تعطل کا شکار جوہری مذاکرات کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں