نان چھانگ (شِنہوا) چین میں جہاں ایک طرف بہار تہوار کے دوران کروڑوں انسانوں کی نقل و حرکت کا سلسلہ جاری ہے، وہیں ملک میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل پر ایک اور موسمی ہجرت شروع ہونے والی ہے۔ یہاں 7 لاکھ سے زائد مہاجر پرندے مارچ سے شمال کی جانب اپنے سفر کی تیاری کر رہے ہیں۔
پرندوں کے اس سفر کی نگرانی کے لئے وانگ شیاؤلونگ ہراول دستے کے طور پر کھڑے ہیں جو 61 سالہ تجربہ کار محافظ ہیں۔ انہوں نے چین کے مشرقی صوبے جیانگشی میں پویانگ جھیل پر پرندوں کے تحفظ کے لئے اپنی زندگی کی چار دہائیاں وقف کر دی ہیں۔
صبح 6 بج کر 30 منٹ پر وانگ پویانگ جھیل کے قدرتی تحفظ گاہ کی طرف جانے والی کشتی پر سوار ہوئے تاکہ اپنا گشت شروع کر سکیں۔ فوجی لباس اور بوٹوں میں ملبوس، اپنی زائد عمر کے باوجود وہ پانی کے کنارے تیزی سے حرکت کر رہے تھے جبکہ ان کی تیز نگاہیں اردگرد کے علاقے کا جائزہ لے رہی تھیں۔ ان کی کنپٹیوں پر جھلکتی سفیدی ہی اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ وہ اس مقام کی نگہبانی کرتے ہوئے 40 سردیاں گزار چکے ہیں۔
جھیل کے ساتھ وانگ کا تعلق بہت گہرا ہے۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب میں 5 سال کا تھا، میں اپنی ماں کے ساتھ جھیل کے کنارے جنگلی سبزیاں توڑنے گیا اور پہلی بار ایک سفید کونج دیکھی۔ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ اسے دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو گیا۔ تب بچپن میں ہی میں نے سوچا تھا کہ اس پروقار مخلوق کی حفاظت ہونی چاہیے۔
21 سال کی عمر میں فوجی خدمات سے ریٹائر ہونے کے بعد وانگ اپنے آبائی شہر واپس آیا اور جیانگشی پویانگ جھیل کی نیشنل نیچر ریزرو ایڈمنسٹریشن میں شامل ہو گیا۔ انہوں نے ریٹائرمنٹ تک وہاں کام کیا اور اس کے بعد بطور رضاکار اپنی خدمات جاری رکھیں۔
ان کے اپنے اندازے کے مطابق وہ گشت کے دوران 4 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ پیدل چل چکے ہیں جو زمین کے گرد 10 چکر لگانے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی تو مجھے خوابوں میں بھی پرندے ہی نظر آتے ہیں۔


