شین زین (شِنہوا) چین کی ڈرون بنانے والی بڑی کمپنی ڈی جے آئی نے کہا ہے کہ اس نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (ایف سی سی) کے 2025 کے اواخر میں کئے گئے اس فیصلے کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے جس کے تحت غیر ملکی ساختہ ڈرونز کو اس کی "کورڈ لسٹ” میں شامل کیا گیا تھا۔
اس فہرست میں غیر ملکی ساختہ ڈرونز اور اہم پرزہ جات کی شمولیت کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ایف سی سی کی منظوری حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جس سے عملاً امریکہ میں ان کی درآمد اور فروخت پر پابندی عائد ہو جاتی ہے۔
اپنی درخواست میں ڈی جے آئی نے موقف اختیار کیا کہ ایف سی سی کا فیصلہ طریقہ کار اور بنیادی نکات کے حوالے سے سنگین خامیوں پر مبنی ہے اور یہ کہ ادارے نے اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا کہ ڈی جے آئی کی مصنوعات امریکی قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔
کمپنی نے کہا کہ یہ مقدمہ اس کے قانونی حقوق اور امریکی صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لئے دائر کیا گیا ہے جن میں زرعی شعبے کے صارفین بھی شامل ہیں جو ان پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔
ایف سی سی کی درآمدی پابندی کے باعث امریکی منڈی میں بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔


