غیر ملکی میڈیا کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت کو دہشتگرد تنظیموں کی مبینہ سرپرستی کے باعث سفارتی اور عسکری سطح پر مشکلات کا سامنا ہے، بعض طالبان حکام بالواسطہ طور پر افغانستان میں شدت پسند عناصر کی موجودگی کا اعتراف کر چکے ہیں۔
جریدے کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سرحدی بندشوں کے باعث افغانستان کو معاشی دباؤ کا سامنا ہے جس سے ادویات اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی ہمسایہ ملک کیساتھ براہ راست عسکری تصادم افغانستان کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، جب تک طالبان اقتدار میں رہیں گے، افغانستان کو عالمی سفارتکاری میں چیلنجز کا سامنا رہے گا۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان میڈیا اور عوام بھی ملک میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق سرحد پار حملوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے جس کے اثرات ہمسایہ ممالک سمیت پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں تاہم طالبان حکومت کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔


