غزہ (شِنہوا) حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل رفح کراسنگ کے آپریشن کے متفقہ طریقہ کار کی “کھلی خلاف ورزی” کر رہا ہے جو جاری جنگ بندی معاہدے میں طے پایا تھا۔
ایک پریس بیان میں تحریک نے کہا کہ اگرچہ گزر گاہ کو دونوں سمتوں میں دوبارہ کھول دیا گیا ہے، تاہم اسرائیل نے اس کے عملی فریم ورک کی خلاف ورزی کی ہے اور غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں کے ساتھ منظم بدسلوکی کی ہے جس میں جسمانی و نفسیاتی ناروا سلوک اور سخت تفتیش شامل ہے۔
حماس کے مطابق اسرائیل غزہ میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والوں کے یومیہ کوٹہ کی پابندی کرنے میں ناکام رہا ہے، جس سے بیرون ملک علاج کے لئے بھیجے جانے والے ہزاروں مریضوں اور زخمیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
حماس نے ثالثوں اور ضامن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مداخلت کریں اور اسرائیل کو بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق گزر گاہ کھولنے کا پابند بنائیں۔


